بےحیائی کا بڑھتا رجحان اور اس کے مہلکات 


ازقلم✍🏻 محمد عادل ارریاوی

____________________________________

 

محترم قارئین آج کا معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہے اور انہی تبدیلیوں کے ساتھ بےحیائی کا رجحان بھی خوفناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے جب اخلاقی حدود کمزور پڑتی ہیں تو فرد اور خاندان دونوں عدم تحفظ بگاڑ اور انتشار کا شکار ہونے لگتے ہیں بےحیائی نہ صرف روحانی و اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہے بلکہ معاشرتی اقدار کردار سازی اور نسلوں کے مستقبل پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس موضوع کو سنجیدگی سے سمجھنا اور اس کے مہلکات سے آگاہ ہونا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے

آج کا دور بلاشبہ ٹیکنالوجی آزادیِ اظہار اور جدت کا دور کہلاتا ہے مگر اسی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ایک ایسی آندھی بھی جنم لے چکی ہے جس نے معاشرتی اقدار کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہ ہے بےحیائی کا بڑھتا ہوا رجحان یہ رجحان بظاہر آزادی اور حقِ انتخاب کے خوبصورت نعروں میں لپیٹا ہوا نظر آتا ہے مگر حقیقت میں یہ اخلاقی گراوٹ روحانی کمزوری اور سماجی انتشار کا پیش خیمہ ہے

بےحیائی دل کی سختی اور روح کی ویرانی کا سبب بنتی ہے جب انسان حیاء کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے تو گناہ اس کے لیے معمولی اور بدکرداری معمول کی چیز بن جاتی ہے حیاء ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے اور اس کا کمزور ہونا دراصل ایمان کے کمزور ہونے کی علامت ہے معاشرے میں زنا بےوفائی عیاشی اور ناجائز تعلقات کا بڑھنا اسی کمی کا نتیجہ ہے

بےحیائی صرف اخلاقی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ ذہنی اور سماجی بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے

ذہنی بےچینی عدم تحفظ حسد مقابلہ بازی اور خود اعتمادی میں کمی رشتوں میں بےوفائی یہ تمام امراض اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان اپنی شخصیت کو دوسروں کی نظر میں دلکش دکھانے کے لیے حدود کو پامال کرتا ہے

اسلام نے حیاء کو ایمان کا زیور اور کردار کا حسن قرار دیا ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا حیا ایمان کا حصہ ہے۔ حیاء انسان کو برائی کے دہانے سے دور رکھتی ہے نگاہوں کو محفوظ کرتی ہے خیالات کو پاک کرتی ہے اور دل کو روشن کرتی ہے

جو معاشرے حیا کو تھام لیتے ہیں وہاں سکون اعتماد اور خیر کا فروغ ہوتا ہے بےحیائی کی موجودہ لہر بظاہر روشن خیالی لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ معاشرے کی بنیادوں پر حملہ ہے اگر ہم نے وقت رہتے اس بہاؤ کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والی نسلوں کو ایک بے مقصد بے لگام اور بے سکون زندگی وراثت میں ملے گی حیاء صرف لباس یا ظاہری پردے کا نام نہیں یہ دل کی پاکیزگی سوچ کی شفافیت اور کردار کی مضبوطی ہے معاشرہ اسی وقت مہذب کہلاتا ہے جب اس کے افراد حیاء اور اخلاق کے زیور سے آراستہ ہوں۔

اے اللہ ربّ العزت ہمیں ہر طرح کی بےحیائی برائی اور گمراہی سے محفوظ فرما ہمارے دلوں کو پاکیزگی اور ہمارے کردار کو حیاء سے مزین فرما آمین یارب العالمین