وہ فون پر گفتگو میں محو تھی کہ اچانک ایک ان کہی
دستک نے اسے چونکا دیا؛ اسے محسوس ہوا جیسے لہجے کے اس پار اس کے جیون ساتھی کے ساتھ کچھ انہونی ہو گئی ہے۔ وہ بدحواس ہو کر اسی سمت دوڑی جہاں اس کا شوہر موجود تھا، مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ تقدیر کا فیصلہ تو کچھ اور ہی تھا۔
وہ پیشے کے اعتبار سے معلمہ تھی اور علم کی شمع روشن کرنا اس کا روزمرہ کا وظیفہ تھا۔ حسبِ معمول اپنے دونوں لختِ جگر اپنی والدہ کے سپرد کر کے وہ اسکول چلی جایا کرتی تھی۔ وہ اپنے فرائضِ منصبی بخوبی انجام دے رہی تھی کہ اچانک ایک فون کال نے اس کی دنیا کی بساط ہی الٹ دی۔ جب وہ موقعِ واردات پر پہنچی تو گویا اس کے ہوش و حواس رخصت ہو گئے۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ابھی پندرہ منٹ قبل تو وہ اس کی آواز سن رہی تھی۔
کیا زندگی اتنی بے وفا ہے؟
کیا موت اس قدر قریب کھڑی ہے؟
کیا ہم اس سے اتنے ہی غافل ہیں؟
کیا ہم نے زندگی کی عیش و عشرت کے لیے خود کو صرف معاشی تگ و دو کی بھٹی میں جھونک دیا ہے؟
کیا رفاقت اور ضرورت سے بڑھ کر ہماری بے لگام خواہشیں زیادہ اہم ہو گئی ہیں؟
وہ ڈاکٹروں پر چیخ رہی تھی، ان کے اس جملے پر کہ "وہ وفات پا چکے ہیں" اسے اعتبار نہیں آ رہا تھا۔ وہ بار بار دہرا رہی تھی، "ابھی تو ہم نے ایک ساتھ چائے پی تھی، ابھی تو وہ مجھ سے بات کر رہے تھے!"
"وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیَّ اَرْضٍ تَمُوْتُ" (سورۃ لقمان: 34)
"اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔"
جی ہاں! یہی زندگی ہے اور یہی اس کی بے وفائی۔ یہ تو ہم انسان ہیں جو اس بے وفا سے زبردستی نباہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کسی بھی موڑ پر دغا دے جائے گی۔ تلخ حقیقت تو صرف موت ہے، جس سے ہم ہمیشہ بے خبر رہتے ہیں۔
زندگی کیا ہے معمہ ہی صحیح لیکن
ایک سلسلہ ہے سانس کا جو ٹوٹ جاتا ہے
از قلم :زا-شیخ