اس قسط میں علماء پر تنقید کی جو وعیدیں آئی ہیں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔
اہلِ علم کی بے حرمتی گم راہی اور خدا کی دشمنی مول لینے کا سبب ہے۔ بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ کسی بھی مسلمان کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے کی طرح ہے، اور علماء کی برائی کرنا ایسا ہے جیسے مردہ بھائی کا زہریلا گوشت کھانا۔ یعنی علماء کی غیبت یا برائی کی صورت میں محرومی اور تباہی تقریباً یقینی ہے۔
حضرت عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں 
’’ میں نے امیر المومنین عمر بن عبد العزیز سے عرض کیا:
’’ کہا جاتا ہے کہ اگر تم میں ایک عالم بننے کی صلاحیت ہو تو جہاں تک ممکن ہو , عالم بننے کی کوشش کرو، اور اگر تم عالم نہیں بن سکتے تو پھر ایک طالب علم بنو، اور اگر طالب علم بننے کی بھی صلاحیت نہیں ہے تو پھر ان سے (علماء و طالب علم) سے محبت کرو، اگر تم ان سے محبت کے قابل بھی نہیں ہو تو پھر (کم از کم) ان سے نفرت مت کرو
عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا:
’’ سبحان اللہ ! اللہ نے اس (آخری ) بندے کو بھی مہلت دی ہے‘‘.[ ابن عبدالبر جامع بيان العلم وفضله ، ١.١٤٢-١٤٣]
یعنی روایت کی رو سے مسلمان بندے کو چاہیے کہ یا تو وہ عالم بنے، یا طالبِ علم بنے یا ان سے محبت کرنے والا، اور آخری صورت گنجائش کی یہ دی گئی ہے کہ کم از کم علماء و طلبہ دین سے نفرت نہ رکھے۔ اگر پانچویں قسم بنے گا تو ہلاک ہوجائے گا۔
حضرت عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’یہ بات درست ہے کہ ایک عقل مند شخص تین طرح کے لوگوں کی بے قدری نہ کرے:
علماء کی، حکم رانوں کی اور اپنے مسلمان بھائی کی.
جو شخص بھی علماء کی بے قدری کرے گا وہ اخروی زندگی سے محروم رہے گا، جو شخص بھی حکم رانوں کی بے قدری کرے گا وہ دنیوی زندگی سے محروم رہے گا اور جو شخص بھی اپنے بھائی کی بے قدری کرے گا وہ اچھے اخلاق و کردار سے محروم رہے گا‘‘. [الذهبي، سير أعلام النبلاء ١٧:٢٥١]

فتویٰ نمبر : 144010200445
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حاصلِ کلام:
علماء انبیاء کے وارث ہیں، ان سے اختلاف ممکن ہے لیکن اس کا ایک علمی طریقہ کار ہے۔ سوشل میڈیا پر بدتمیزی اور نام نہاد مفکرین کی پیروی معاشرے میں فکری انتشار پیدا کر رہی ہے۔

اس مضمون کو لکھنے کا  مقصد صرف اور صرف علماء کی بے جا تنقید سے عوام کو بچانا ہے ۔
امید کرتی ہوں میری بات لوگوں کے دلوں تک پہنچے ۔۔۔۔ جزاکم اللہ خیرا 💖