جب اخلاق بکتے ہیں — مدارس کے دروازوں پر ایک کڑوی حقیقت"
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
       مضمون (91)
مدارس ہمیشہ سے دین کے قلعے، اخلاص کے مراکز اور اخلاق کے مظہر سمجھے جاتے رہے ہیں۔ یہاں صرف قرآن و حدیث کی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ کردار سازی، تواضع، مہمان نوازی اور حسنِ سلوک بھی سکھایا جاتا ہے۔ یہی وہ اوصاف تھے جنہوں نے مدارس کو عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔ مگر جب انہی مراکز میں اخلاقی زوال سر اٹھائے، تو یہ محض ایک کمی نہیں بلکہ ایک خطرناک انحراف بن جاتا ہے—ایسا انحراف جو خاموشی سے دلوں کو توڑتا اور دین کے راستے کو کمزور کرتا ہے۔
       ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب مدرسہ صرف علم کا مرکز نہیں بلکہ محبت کا گلستان ہوتا تھا۔ طلبہ کے سرپرست جب آتے، تو منتظمین ان کا استقبال ایسے کرتے جیسے کوئی عزیز مہمان آیا ہو۔ چہروں پر مسکراہٹ، لہجوں میں نرمی، اور انداز میں اپنائیت—یہ سب کچھ ایک ایسا ماحول پیدا کرتا تھا کہ آنے والا شخص خود کو اس نظام کا حصہ محسوس کرتا تھا۔ وہ واپس جاتا تو اس کے دل میں مدرسے کی محبت اور زبان پر اس کی تعریف ہوتی، اور یہی تعریف دین کی ترویج کا خاموش ذریعہ بنتی۔
لیکن آج…
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے نئے اور بعض پرانے مدارس میں ایک عجیب قسم کی بے حسی اور بد اخلاقی نے جگہ بنا لی ہے۔
اب اگر آپ کسی مدرسے کا رخ کریں—چاہے آپ ایک عالم ہوں یا ایک عام مسلمان—تو اکثر جگہوں پر آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ کسی اجنبی دروازے پر کھڑے ہیں جہاں نہ کوئی مسکراہٹ آپ کا استقبال کرتی ہے، نہ کوئی دل سے “السلام علیکم” کہتا ہے۔ آپ دور دراز سے تھکے ہارے پہنچیں، مگر نہ کوئی آپ کی تھکن کا احساس کریں گے ، نہ ایک گلاس پانی پوچھیں گے —
چائے تو اب گویا خواب و خیال کی بات رہ گئی ہے؛ نہ ذاتی جیب سے توفیق ہوتی ہے، نہ ہی مدرسے کے عام چندے سے ایک پیالی نصیب ہوتی ہے— یہ بے حسی اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ مہمان نوازی محض کتابوں کا باب بن کر رہ گئی ہے، عمل کا حصہ نہیں بات صرف مہمان نوازی کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ لہجوں کی سختی، انداز کی بے رخی اور گفتگو کی تلخی دل کو چیر دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی علمی ادارے میں نہیں بلکہ کسی سرد دفتر میں داخل ہو گئے ہوں جہاں انسان نہیں، صرف رسمی چہرے بیٹھے ہیں۔
اور پھر یہی منظر یکسر بدل جاتا ہے…جب کوئی صاحبِ حیثیت، کوئی “موٹا چندہ” دینے والا دروازے پر آتا ہے! تب وہی چہرے کھل اٹھتے ہیں، وہی زبانیں نرم ہو جاتی ہیں، وہی لوگ خندہ پیشانی، عاجزی اور خوشامد کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جائے۔ گویا معیارِ عزت اب علم، تقویٰ اور اخلاص نہیں بلکہ جیب کی گہرائی بن چکی ہے! یہ دوہرا معیار صرف ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسا ناسور ہے جو مدارس کی روح کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو نظر نہیں آتا مگر اثر بہت گہرا چھوڑتا ہے۔
اگر کوئی شخص حقیقت جاننا چاہے تو کسی مدرسے میں اجنبی بن کر چلا جائے—نہ تعارف کرائے، نہ مالی حیثیت ظاہر کرے—پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔ یہی وہ کسوٹی ہے جہاں بہت سے دعوے دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ بد اخلاقی اب انفرادی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ ایک عمومی رویہ بنتی جا رہی ہے۔ اور اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب عوام کے دلوں میں مدارس کی وہ عزت، وہ عقیدت، وہ محبت باقی نہ رہے جو کبھی ان کا سرمایہ تھی۔
تاہم، امید کی کرن ابھی باقی ہے۔ آج بھی کچھ مدارس ایسے ہیں جہاں اسلاف کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، جہاں منتظمین ہر آنے والے کو عزت دیتے ہیں، جہاں ایک مسکراہٹ صدقہ سمجھی جاتی ہے، اور جہاں ایک گلاس پانی بھی محبت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ ادارے ہیں جو حقیقت میں دین کی خدمت کر رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم رک کر سوچیں، اپنے رویّوں کا جائزہ لیں، اور یہ فیصلہ کریں کہ ہم مدارس کو کس سمت لے جا رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں محض چندہ جمع کرنے کے مراکز بنائیں گے؟
یا انہیں واقعی اخلاق، محبت اور اخلاص کا گہوارہ بنائیں گے؟
یاد رکھیں! مدرسے کی عظمت اس کی عمارت، اس کے فنڈ یا اس کے نظم میں نہیں…بلکہ اس کے دروازے پر ملنے والی عزت، اس کے اندر محسوس ہونے والی محبت، اور اس کے منتظمین کے اخلاق میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
اگر اخلاق زندہ ہیں… تو مدرسہ زندہ ہے۔ اور اگر اخلاق مر گئے… تو صرف عمارت باقی رہ جاتی ہے۔
                اشعار:
در پہ آئے جو خالی ہاتھ، تو خالی سا ملا
اہلِ زر آئے تو ہر چہرہ کھلا سا ملا
                علم کے ساتھ اگر خُلق نہ ہوزندہ کہیں
             ایسا مدرسہ پھر صرف عمارت سا ملا
               بقلم محمودالباری
    mahmoodulbari342@gmail.com