*گوشہ نشین علماء اور غافل قوم کے نام ایک کڑوا سچ*
*ان علماء سے خطاب جو خود کو سیاست سے ماوراء سمجھتے ہیں*
اے منبر و محراب کے وارثو! تمہارا کام صرف نکاح پڑھانا اور جنازے اٹھانا نہیں تھا، تمہاری خاموشی نے ایوانوں کو لادینوں، چوروں اور لٹیروں کے حوالے کر دیا ہے، اگر تم سیاست گندی ہے کہہ کر پیچھے ہٹ گئے، تو تم نے اس گندگی کو مسجدوں کے دروازوں تک آنے کا راستہ کیوں دیا؟ تم نے علم کی امانت میں خیانت کی تم نے کتابیں تو پڑھیں، مگر کتاب لانے والے کی سنتِ ہجرت و جہاد بھول گئے، تمہاری اس بے حسی نے امت کو یتیم کر دیا ہے،تم آج بھی خانقاہوں کے حجرے گرم رکھے ہوئے ہو مگر قوم کے مقدر سرد پڑ چکے ہیں، تمہارے مساجد میں خطبات گونجتے ہیں مگر پارلیمنٹ میں تمہاری آواز کوئی سننے والا نہیں، تم نے اخلاقیات کے درس تو دے دیے، مگر اخلاق برباد کرنے والے نظام کو چیلنج کرنے کی ہمت نہ دکھائی، تم نے دین کی حفاظت تو کر لی، مگر دین کے نفاذ کا حوصلہ نہ دکھایا، تم نے محراب پر کھڑے ہو کر امت کو سیدھا راستہ تو دکھایا، مگر ریاست کو سیدھے راستے پر لانے کی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ لیا۔
کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جب امام خاموش ہوتا ہے تو فاسق حکمران بولتے ہیں؟ جب عالم پیچھے ہٹتا ہے تو جاہل آگے بڑھتے ہیں؟ تمہاری یہ کنارہ کشی امت کے لیے سب سے بڑا زخم بن چکی ہے، ایک ایسا زخم جس میں ہر روز سیاستدان اپنی ہوس کی نمک چھڑکتے ہیں،کبھی اس قوم دہلی کے دروازوں پر مارا جاتا ہے لیکن تم خاموش ہو،کبھی ان سے انکی مساجد و مدارس کو چھین لیا جاتا ہے تم خاموش ہو،کتنے غریب بچے علم و ہنر سے آراستہ و پیراستہ ہوتے تھے انکی زندگیوں کو برباد کر دیا گیا،کبھی ایک یونیورسٹی میں پڑھنے والی شرجیل امام کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تم خاموش ہو، آخر تمہاری امامت کا مطلب کیا ہے،کیا تمہیں نظر نہیں آتا جب تم ایک بار اللہ اکبر کہتے ہو یہ پوری قوم ایک جگہ کھڑی ہو جاتی ہے کسی کی طاقت و ہمت نہیں وہ جماعت سے نکل سکے بغیر شرعی عذر کے،جو قوم تمہاری ایک صدا پر کبھی گھٹنوں کے بل آ جاتی ہے، کبھی سر کو زمین پر رکھ دیتی ہے، کبھی سر اٹھا کر بیٹھے رہتی ہے،لیکن نماز سے نکلنے کی اجازت نہیں، جو قوم تمہارے ایک ایک اشارے پر اتنا سب کر سکتی ہے پھر تم نے اس قوم کے اندر مجاہد کیوں پیدا نہیں کئے، تم نے اس قوم کو قرآن و حدیث سے صرف و صرف امن و آمان کا پیغام ہی کیوں سنایا، تم نے کیوں نہیں بتایا کہ کہ اسلام نے جہاد کا بھی حکم دیا ہے،تم نے کیوں نہیں بتایا اسلام نے گردن اڑانے کا بھی حکم دیا ہے، تم نے کیوں نہیں بتایا اسلام پر آنچ آئے تب جان کی بازی لگانے کا بھی حکم اسلام نے دیا ہے،آخر کیوں، کیا قرآن و حدیث نے تمہیں یہ تمام دروس بتائے نہیں ہیں، بلکل سب بتائیں ہیں لیکن تم تو چودھری صاحب کی باتوں میں ہاں ہاں کرنے والے امام ہو،تم قوم کی قیادت کرنے والے نہیں بلکہ اپنی روٹیاں سیکنے والے امام ہو،تم غیرت مند امام نہیں تمہیں دین کا درد نہیں، اگر دین کا درد ہوتا تو خدارا یہ قوم اس دہانے پر نہ آتی جس پر آج کھڑی ہے، اس قوم کو اس اسلام سے یتیم کر دیا گیا ہے، جو اللہ کے نبی کا دیا ہوا دین تھا تم تو وہ امام ہو جو ہر غلط انسان کی تعریف مصلے کرتے ہو کیوں کہ تم سمجھتے یہ ہو نہ کہ روٹی تمہیں قوم دیتی ہے، تم خود متوکل علی اللہ نہیں پھر تم کہاں قوم کو سمجھا سکتے ہو، تم نے بس اتنا ٹھیکہ لیا ہوا حجرے سے محراب پھر محراب سے حجرہ خدا کے لیے اس قوم پر رحم کریں، اسکو کھویا ہوا وقار اگر واپس دلانا ہے ہمارے ائمہ کرام کو میدان میں آنا ہوگا، انہیں قوم کی قیادت صحیح سے کرنی ہوگی،انہیں اسلام کے درد کو سمجھنا ہوگا،انہیں قوم کو تاریخ کے وہ اوراق سنانے ہوں گے، جس سے مجاہد بنتے ہیں، جس سے قوم کو سنبھالا جا سکتا ہے، خدارا آپکے پاس وہ طاقت و ہمت ہے، کہ آپ اس قوم کو عروج ثریا سے ملا سکتے ہو،لیکن شرط یہی ہے کہ آپکو اسلام وہی سمجھانا ہوگا جو اللہ اور اسکے رسول نے دیا ہوا ہے، اور اگر آپ چودھری سیٹ اور مالدار اور غریب کے اعتبار سے دین سمجھاؤ گے تب یہ قوم اس سے بھی بدتر کنارے پر آنے والی ہے، اور اگر ابھی بھی تم اس چیز کے قائل ہو کہ قوم ہماری سنتی نہیں، پھر آپ سے سوال ہے جس امام کی قوم نہیں سنتی تب اسکے کہنے پر قیام، قرات، رکوع سجود،تمام اراکین نماز کیوں کرتی ہے،اگر کرتی ہے تب آپکی بات کیوں نہیں سن سکتی اسکی واحد وجہ یہ ہے کہ تم نے قوم کو وہ اسلام نہیں سمجھایا جو سمجھانا چاہیے تھا بلکہ چودھری اور سیٹ والا اسلام سمجھایا ہے۔
*اس قوم سے خطاب جو کہتی ہے علماء کا سیاست میں کیا کام؟*
تمہاری عقلوں پر ماتم کرنے کا جی چاہتا ہے، تم اپنے بچوں کا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھ میں دیتے ہو جو اللہ سے نہیں ڈرتے، اور ان لوگوں کو سیاست سے روکتے ہو جن کے دلوں میں آخرت کا خوف ہے؟ تم خود فیصلہ کرو جس شخص کو قبر یاد نہ ہو، وہ تمہاری دنیا سنوارے گا؟ جو خود خالق کے غضب سے نہیں ڈرتا وہ تمہاری نسلوں کے حقوق کی حفاظت کرے گا؟ یاد رکھو جب تک پارلیمنٹ میں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدا نہیں گونجے گی،تمہارے مقدر میں ذلت کے سوا کچھ نہیں ہوگا، یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اسی قوم پر جاہل اور ظالم مسلط کرتا ہے جو اپنی راہنمائی ایمانداروں سے چھین کر دنیا پرستوں کے حوالے کر دیتی ہے، تمہاری کوتاہی تمہاری آنے والی نسلوں کی بربادی لکھ رہی ہے، تم نے جنہیں اپنے محافظ سمجھ کر ووٹ دیا، وہ تمہاری عزتیں، تمہاری غیرتیں، تمہارے وسائل اور تمہاری آزادی بیچ رہے ہیں،تم نعرے لگاتے ہو، جلوس نکالتے ہو، فریادیں کرتے ہو مگر کبھی سوچا کہ اگر منبر کا وارث اسمبلی میں ہوتا تو آج قوانین کچھ اور ہوتے، نظام کچھ اور ہوتا، معاشرہ کچھ اور ہوتا،لیکن اگر تمہارا امام تو چھوٹے موٹے الیکشن کے لیے بھی کھڑا ہو جائے تن تمہارے پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے،تم تو کہتے ہو امام صاحب کا کیا کام ہے الیکشن لڑنے میں، بے غیرت قوم سمجھ جاؤ ایک عالم جتنی سیاست کر سکتا ہے اسکا پاسن بھی تمام کفار نہیں کر سکتے، کیونکہ اسکے پاس دو مدد ہوتی ہیں ایک اسکی ظاہری جس کا مقابلہ بھی بڑی با مشکل ممکن ہے، اور اسکی باطنی طاقت کا مقابلہ پورے عالم کفر نہیں کر سکتا، اگر نہیں یاد تو دیکھ لو حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہم کو، اور قریب میں حضرت سلطان حمید الدین سلطان نصیر الدین سلطان سلاح الدین، کو اور قریب سے دیکھنا ہے، تو دیکھ لو قریبی ملک کے ایک شیر کو جسے *خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ* کہا جاتا ہے، جو ٹانگوں سے معذور ویل چیئر پر بیٹھنے والا اور اسکی ایک تقریر کو تمام عالم کفر جھک کر سنتا تھا،امریکہ کا سور صدر انکو اتنگواد کہتا تھا،یہ ہے قیادت جس کا مختصر سا خطبہ تمام عالم کفر کو ہلا کر رکھ دیتا تھا،اور کمال یہ کہ وہ ویل چیئر پر بیٹھنے والا تھا۔
*علمائے کرام کی بارگاہ میں عریضۂ مخلصانہ* اے ملتِ اسلامیہ کے عظیم سپہ سالارو آپ وارثینِ انبیاء ہیں، اور وارث کا کام صرف وراثت کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ اسے نافذ کرنا بھی ہوتا ہے، آج جب سیاست جھوٹ اور کرپشن کا نام بن چکی ہے، تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اسے سیاستِ محمدی ﷺ کے رنگ میں رنگ دیں،آپ سیاست میں آئیں تاکہ سیاست کو تقدس ملے اور انسانیت کو ظالموں سے نجات ملے، آپ کا سیاست دان بننا اقتدار کی ہوس نہیں، بلکہ دین کی نصرت ہے، قوم کی بگڑتی ہوئی حالت کا نوحہ پڑھنے کے بجائے اس قوم کی تقدیر لکھنے کے لیے قلم اٹھائیے، امت کی فریادیں کانوں میں پڑ رہی ہیں، معصوم بچوں کی چیخیں عدالتوں تک پہنچتی ہیں مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی،ایسے وقت میں اگر آپ بھی پیچھے ہٹ گئے تو یاد رکھیں کل جب اللہ کے دربار میں پوچھا جائے گا کہ امت پر ظلم کیوں ہونے دیا؟ تو خاموشی دلیل نہیں بنے گی، خاموشی جرم بنے گی۔
ہمیں ڈر اس خنزیر خور قوم کے ادنی سے انسان سے جس سے خود اپنے دین کی ڈفینیشن نہ ہو سکے،کیا وہ گنجا جسکی کوئی وقعت نہیں، اس سے خوف یقینا ایمان کی کمزوری ہے،وہ ذلیل انسان جس نے ایک ایک اسلام کی بیٹی سے حجاب چھینا جس کی خود کی سگی بہن کی بیٹی ایک مسلم خاتون ہو کر خود پر فخر محسوس کرتی ہے،اگر واقعی مذہب اسلام سچا مذہب ہے اور آپ اسکے یقینا ماننے والے ہیں، تم تمام عالم اسلام سے میرے وہی سوالات ہیں جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے کئے تھے،اگر ایسا نہیں تب سوچنے کا مقام ہے ہم نے کون سا کلمہ پڑھا ہوا ہے،ہم کس اسلام پر ہیں، کیا واقعی یہی وہ اسلام ہے جس پر ہم ہیں یا کوئی اور، *اور پھر سلطان صلاح الدین ایوبی کے وارثوں سے وہ سوالات ہیں جو اس یہودی بچی نے کئے تھے،اے سلطان صلاح الدین ایوبی کیا یہی وہ کلمہ ہے جو محمد ﷺ نے آپکو سکھایا تھا،کیا یہی وہ دین ہے جو پیغمبر اسلام کے ہمنواؤں نے جانیں گنوائی تھی،کیا یہی وہ مذہب اسلام ہے جس کی قیادت محمد ﷺ کے بعد ابو بکر و عمر فاروق و عثمان و علی رضی اللہ تعالٰی عنہم نے کی تھی؟*
یاد رکھو سیاست جب تک بے لگام رہے گی، انسانیت تڑپتی رہے گی، جب تک منبر و محراب کا وارث پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھے گا، قانون سازی میں اسلام کی روح پیدا نہیں ہو سکتی، آج سیاست دان قانون بناتے ہیں اور علماء اس قانون پر تبصرے کرتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ یہ ترتیب بدلے، اس لیے علمائے کرام کا سیاست میں ہونا اختیار نہیں، بلکہ وقت کا اہم ترین فرض ہے، سیاست کو شجرِ ممنوعہ سمجھنے والو ہوش کے ناخن لو، ورنہ صرف مصلے باقی رہ جائیں گے اور نظامِ کفر تمہاری نسلوں کے ایمان کا سودا کر لے گا، پھر نہ کہنا کہ ہم نے خبردار نہیں کیا۔
بڑے مختصر اور واضح انداز میں علامہ اقبال نے اس قوم کو درس دیا تھا انہوں نے فرمایا تھا:
*جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو*
*جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔*
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*