اس عہدِ بے وفا میں اگر کوئی ہمراز ڈھونڈھنا ہو تو کتاب کے اوراق سے بہتر کوئی آغوش نہیں مل سکتی۔ لفظوں کی یہ خاموش دنیا انسان کے ٹوٹے ہوئے احساسات کو یوں سمیٹ لیتی ہے جیسے ماں اپنے بکھرے ہوئے بچے کو سینے سے لگا لیتی ہے۔
اس شوریدہ زمانے میں اگر سکونِ دل کی کوئی راہ تلاش کرنی ہو تو تنہائی کی خاموشی سے بڑھ کر کوئی ہم نشیں نہیں ملتا، جہاں انسان خود سے ہم کلام ہو کر اپنے اندر کے بکھرے ہوئے وجود کو یکجا کر لیتا ہے۔
اس ہجومِ بے حس میں اگر سچی مسکراہٹ کی جستجو ہو تو معصوم چہروں کی روشنی سے زیادہ کوئی چراغ درخشاں نہیں، کہ وہ بنا کسی غرض کے دل کو مسرّت کی ایک نئی دنیا عطا کر دیتے ہیں۔
اس فریبِ دنیا میں اگر وفا کا کوئی سراغ چاہیے ہو تو ماں کی دعا سے بڑھ کر کوئی سائبان نہیں، جو ہر آندھی، ہر طوفان میں انسان کو اپنی پناہ میں محفوظ رکھتا ہے۔
اور اس دورِ مادّیت میں اگر راحتِ جاں کا کوئی وسیلہ درکار ہو تو ذکرِ الٰہی سے بڑھ کر کوئی قرار نہیں، جو دل کے ویرانوں کو آباد کر کے روح کو ایک ابدی طمانیت سے ہمکنار کر دیتا ہے۔
محمد مصعب پالنپوری