انسان عقلمند ہو یا بے وقوف ، عالم ہویا جاہل ، لغزش سب سے ہوتی ہے ، غلطی اور گناہ سے کوئی بچ نہیں سکتا ، کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس سے غلطی نہ ہوئی ہو اور نہ کوئی ایسا ہے جس نے صرف نیکیاں ہی کی ہو ، نیکی بدی ، خیر و شر ،حق و باطل ، وفا اور سچ و جھوٹ چیزیں انسان کے مادے و ضمیر میں ہیں۔
اللہ تعالی نے عفو درگزر اور معافی و بردباری کو پیدا فرمایا:
قرآن مجید میں ہے اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
اگر گناہ خطا نہ ہوتی تو عفو و بردباری بھی نہ ہوتی، کسی بھی شخص کی بردباری کا علم غصے کے وقت اور اس کی سخاوت کا علم حاجت کے وقت ہوتا ہے، اگر رنگ ساز کے پاس سفید کپڑا نہ ہو تو کسی کو کیسے معلوم ہوکہ وہ رنگ ساز ہے ، اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو مخاطب کر کے فرمایا لوگوں کے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ کرو کیا تم یہ پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالی تمہیں معاف کرے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے ساتھ مت جھگڑو اور نہ ہی اپنے بھائی کے ساتھ مذاق کرو ، ایسا وعدہ بھی نہ کرو جسے پورا نہ کر سکو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ آیت نازل ہوئی عفو درگزر کو لازم پکڑو نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کشیی اختیار کرو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل امین سے معلوم کیا ہے یہ کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناطہ توڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ناطہ جوڑیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دے اسے عطا کریں ، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرے اس سے درگزر فرمائیں ۔
ہمیں چاہیے کہ ہم بلا جھجک معافی مانگ
لیں کہ یہی بڑا پن ہے ،اس سے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جاتا ہے اور پریشانی بھی کم ہو جاتی ہے ۔ اگر ہم اپنے ماحول و معاشرے کو خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں معافی کوعام کرنا ہوگا ، اس سے محبتیں فروغ پائیں گی، رشتے مضبوط ہوں گے ، دوست قریب ہوں گے، اعتماد پختہ ہوگا، اور سکون اور چین سے بھرپور معاشرہ تشکیل پائے گا۔
انمول ✍️