ایمان کا تعارف اور اہمیت 

اللہ تعالٰی جو انسان کا اور کل کائنات کا خالق رب
 ،پروردگار اور پالنہار ہے اس اللہ نے انسان پر کروڑوں نعمتیں عطا فرمائیں ہیں جن کا اس مادی دور میں بھی شمار ناممکن ہے لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے اعلٰی بہتر وہ ایمان کی نعمت ہے ۔
یہ وہ نعمت ہے جو سب سے قیمتی ہے اور دنیا کی تمام نعمتیں ملکر اس دولتِ ایمان کا مقابلہ نہیں 
کرسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ عقائد کی درستگی مسلمان کا اولین فریضہ قرار پایا ۔اور دارین کی خوشبختی اور بدبختی یہ عقائد کے درست اور خراب ہونے پر منحصر ہے 
عقائد یہ بنیاد ہے اور اعمال یہ عمارت ہے 
اگر بنیاد مضبوط اور پائیدار ہوگی تو عمارت باقی رہیگی 
ورنہ بے بنیاد عمارت کے ضائع ہونے میں کچھ وقت نہیں لگتا ۔
لہذا اسلامی عقائد پر کامل یقین بندۂ مومن کی انفرادی زندگی کی اہم ترین ضرورت ہے 
ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کو بلا شرکتِ غیر ،بغیر کسی شک و شبہ کے مانے اور کفر و شرک کی ہر چھوٹی بڑی ہر قسم کی گندگی سے اپنے دل و دماغ کو آئینہ کیطرح صاف و شفاف رکھے ۔

ایمان کی اہمیت کو ایک مثال سے سمجھیں 
مثلا۔ایک ایسا بندہ جسے دنیا کی تمام نعمت اور سہولت حاصل ہو ،تنِ تنہا پوری دنیا کی بادشاہت اسے مل جائے عیش و آرام کی تمام چیزیں اسے میسر ہو ،من پسند زندگی گزار رہا ہو ،نہ کبھی بیمار پڑتا ہو ،نہ کوئ مصیبت اسے کبھی پہنچی ہو ،کوئ دکھ اسنے نہ دیکھا ہو کھانے پینے پہننے کی ہر چیز اعلٰی درجہ کی وہ استعمال کرتا ہو 
مگر ایمان نہ ہو تو درحقیقت یہ بندہ ناکام اور بدنصیب ہے ،کیونکہ جوں ہی اسکی سانس تھمیگی موت واقع ہوگی وہ مرتے ہی سیدھے ہمیشہ ہمیش کی آگ اور سزاؤں میں جائیگا جس کا اسنے کبھی تصور نہ کیا ہوگا اور اسے یہ یاد بھی نہ رہیگا کہ اسنے دنیا میں کوئ عیش وآرام کی زندگی گزاری ہے 
اسکے برخلاف اگر ایک بندہ ایسا ہو جسکی تمام عمر مصیبتوں میں گزرے نہ اسے رہنے کا گھر نصیب ہو نہ پہننے کو کپڑے، لقمہ لقمہ کو ترستا ہو لیکن اسکے دل میں ایمان ہو اور وہ ایمان کے ساتھ رب کے حضور حاضر ہو تو وہ ایسا خوشقسمت ہے کہ مرتے ہی رب تعالٰی اسے جنت دیںگے جہاں وہ اپنے من پسند کی زندگی گزارے گا  ہر عیش و آسائش کی  چیزیں مہیا ہوں گی اور 
وہ اس نعمت سے کبھی محروم بھی نہ ہوگا۔