شہدائے اہل فلسطین کی قربانی: ایک روشن مثال
دنیا کی تاریخ قربانیوں، مظلوموں کی آہ و فغاں اور ظالموں کے ظلم سے بھری پڑی ہے، مگر کچھ قومیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر حق و صداقت کا علم بلند کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک عظیم اور باوقار قوم فلسطین کے عوام کی ہے، جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، جبر، محاصرے اور بمباری کا سامنا کیا، مگر اپنے ایمان، دین، سرزمین اور آزادی کی حفاظت کے لیے جانوں کا سودا قبول کیا۔
فلسطین کا پس منظر:فلسطین وہ مقدس سرزمین ہے جسے قرآن کریم نے "ارضِ مقدسہ" کہا، جہاں انبیاء علیہم السلام کا قیام رہا، اور جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے – جو مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے۔ 1948ء میں اسرائیل کے ناجائز قیام کے بعد سے فلسطینی عوام کو ان کے گھروں سے نکالا گیا، ان کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا، اور مسلسل قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا۔
قربانی کی اہم مثال:فلسطینی قوم کی جدوجہد کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ ایمان، سرزمین اور قبلۂ اول کی حفاظت کے لیے ہے۔ان کے شہداء کی قربانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی:
1. معصوم بچوں کی شہادت:پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح معصوم بچوں کو گولیوں، بمباری اور محاصرے کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر یہ بچے نہ صرف صبر کا پہاڑ بنے رہے بلکہ شہادت کو اپنی عظمت سمجھ کر دنیا کو حیران کر دیا-ان درندہ صفت لوگوں نے معصوم بچوں تک نہیں بخشا ابھی حال ہی میں ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جہاں ایک چھوٹی بچی پر تقریبا 200 راونڈ فائر کیے گئے۔
2. خواتین کی بہادری:فلسطینی مائیں اپنے بیٹوں کو شہادت کے لیے رخصت کرتے ہوئے "مبارک ہو تمہیں شہادت" کے الفاظ کہتی ہیں۔ ان کی بیٹیاں میدان میں آواز حق بلند کرتی ہیں، اور ان کی خواتین جذبۂ جہاد کی علامت بن چکی ہیں۔
3. بوڑھوں اور جوانوں کی یکساں قربانی:
چاہے بوڑھے ہوں یا نوجوان، ہر فرد دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا نظر آتا ہے۔ بزرگ افراد اپنی لاٹھیوں سے اور نوجوان اپنے جسموں سے ظلم کے مقابلہ کر رہے ہیں۔
یہ قربانیاں کیوں عظیم ہیں؟
اخلاص پر مبنی ہیں: ان کی جدوجہد کسی دنیاوی مفاد کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا، اسلام کی عظمت، اور امت کی بیداری کے لیے ہے۔
غیر مسلح ہوکر بھی مزاحمت: وہ دشمن کے جدید اسلحے کے مقابلے میں پتھروں، دعاؤں اور صبر سے لڑ رہے ہیں۔
امت کو جگانے والی: ان کی قربانیوں نے پوری امت مسلمہ کو خوابِ غفلت سے جگایا ہے، اور قبلۂ اول کی اہمیت کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا ہے۔
شہادت کی روح:
قرآن کریم میں فرمایا گیا:
> "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"
"جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہو گئے، انہیں مردہ مت سمجھو، وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جا رہے ہیں۔"
یہ آیت ان فلسطینی شہداء کے مرتبے کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔
امت کی ذمہ داری:فلسطینی شہداء کی قربانیاں ہم سب کے لیے بیداری کا پیغام ہیں۔
ہمارے ذمہ ہے کہ:ہم ان کے حق میں دعائیں کریں،ظالم کے خلاف آواز بلند کریں،اپنے مال و وسائل سے مدد کریں،اور سب سے بڑھ کر اتحاد قائم کریں۔اور ان کے لیے بارگاہ رب العزت میں خوب دعائیں کرتے رہے ان کے ایمان کی طرح اپنے ایمان کی مضبوطی کی بھی دعا کریں۔
فلسطینی شہداء کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے حق کے لیے لڑتی ہیں، جان دیتی ہیں، مگر جھکتی نہیں۔ ان کی قربانیاں رہتی دنیا تک عزت، غیرت، ایمان، اور وفاداری کی مثال بنی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی دین، حق، اور مظلوموں کی حمایت میں کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔