:-اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے 
دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشہ ہے اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے ان کے لیے جو اللہ سے ڈرتے ہیں کیا تم سمجھتے نہیں۔

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کے زیب و زینت کے طالب ہوں ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں دیا جاتا ہے اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہے جو انہوں نے دنیا میں کیا سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہونے والا ہے۔

مگر افسوس آج کا مسلمان دنیا کی محبت میں اندھا ہو چکا ہے جس لاںٔف اسٹاںٔل کے ساتھ وہ جی رہا ہے اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے قبر اور جہنم کے عذابوں کا سامنا اسے کرنا ہی نہیں ہے اس کی وجہ دنیا کی زندگی کی حقیقت سے لاعلمی ہے۔

اب اس میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو دنیا سے بالکل الگ ہو کر اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھ کر اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر زندگی گزاریں گے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوبارہ زندہ نہیں ہوگا یہ دنیا اللہ نے کھیل تماشےEntertainment کے لیے بنایا ہے۔

انہیں سب معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی ہمارے لیے ایک امتحان ہے لیکن پھر بھی وہ یہ سب کر گزرتے ہیں ، اگر اللہ نے یہ سب کھیل تماشے کے لیے بنایا ہوتا تو ہمیں پریشانیوں میں کیوں ڈالتا ؟ یہاں یہ غور کرنے کی بات ہے :- ہمارے لیے زندگی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے اس لیے ہماری زندگی میں جب بھی کوئی پریشانی آتی ہے تو ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ ہمارے لیے اللہ کی طرف سے آزمائش ہے ، جب ان سے ہمیں آزمائشوں میں ڈالا ہے تو نکلنے کا راستہ بھی بتائے گا بس ہمیں شکر گزار ہو کر اس کی عبادت کرنی چاہیے۔

:حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں 
:اگر تم سے کوںٔی پوچھے بتاؤ 
زندگی کیا ہے ؟
ہتھیلی پر ذرا سی خاک رکھنا اور اڑا دینا۔

انمول ✍️