یاد رکھو! زوال کی ابتدا غیرت کے جنازے سے ہوتی ہے، اور افسوس کہ آج غیرت کا جنازہ بھی بڑی دھوم دھام سے نکل رہا ہے۔
یہ لمحۂ فِکر ہے کہ جن قدموں کو تراویح میں کھڑا ہونا دشوار لگتا تھا، وہی قدم کل محفلِ قوالی میں رقصاں تھے؛
اور جو حافظِ قرآن کے ہدیے پر اعتراض کرتے ہوئے چندے کے چند سکے جمع کرکے صاحبِ قرآن کو ہدیہ کرتے تھے، وہی لوگ قوالی کی محفل میں نوٹوں کی بارش کرتے ہوئے بدمست نظر آ رہے تھے۔
اے صاحبِ قرآن تمہیں دنیا ذلیل کرنے میں لگی ہے۔ عزت و رفعتیں تیرے سر کا تاج ہے۔ بلندیاں تیرے قدموں کی معراج ہے۔ مگر صاحبِ قرآن تیری عظمت کی قسم عزت و رفعتیں، سربلندی، قرآن سے وابستہ ہے۔