بچوں کو بالغ ہو کر احساس ہوتا ہے کہ اصل کامیابی کھلونے جمع کرنا نہیں بلکہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھنا ہے.
پھر شادی ہونے پر معلوم ہوتا ہے کہ بہترین شریک حیات کا ملنا اصل کامیابی ہے۔
پھر روز گار کے معاملات سے دل میں یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ اصل کامیابی کا روبار کے وسیع ہونے یا ملازمت میں پر موشن سے ہے.
جوانی ڈھلنے پر نقطہ نظر تبدیل ہو جاتا ہے کہ اصل کامیابی تو با صلاحیت اولاد، بڑے سے گھر اور بہترین گاڑی کے ہونے سے ہے.
پھر بڑھاپے میں انسان کے نزدیک اصل کامیابی کا پیمانہ بیماریوں سے بچ کر جسمانی و دماغی تندرستی کا بر قرار رہنا قرار پاتا ہے.
بالآخر جب موت کا فرشتہ انسان کو لینے آجاتا ہے تو اصل بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ کامیابی کے تمام تر دنیاوی تصور در حقیقت بہت بڑا دھوکا تھے،
اصل کامیابی تو اللہ پاک کے احکامات اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک اعمال میں تھی جسکے لئے کبھی وقت ہی نہیں مل سکا تھا۔