تیراکی ایک نہایت مفید اور صحت بخش کھیل ہے۔ یہ نہ صرف جسم کو مضبوط بناتی ہے بلکہ انسان کو چست اور توانا بھی رکھتی ہے۔ پانی میں تیرنا انسان کے لیے ایک قدرتی ورزش ہے جو جسم کے تقریباً تمام عضلات کو حرکت دیتی ہے۔
تیراکی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے۔ اس سے دل مضبوط ہوتا ہے، سانس لینے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور جسم میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر بھی اکثر صحت مند رہنے کے لیے تیراکی کی مشق کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جو لوگ باقاعدگی سے تیراکی کرتے ہیں وہ عام طور پر زیادہ صحت مند اور طاقتور ہوتے ہیں۔
تیراکی ایک مفید ہنر بھی ہے۔ اگر کسی کو تیراکی آتی ہو تو وہ پانی میں پیش آنے والے حادثات سے خود کو اور دوسروں کو بچا سکتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اگرچہ براہِ راست تیراکی کا حکم نہیں دیا گیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت اور صحت حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ"
ترجمہ: "اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک ہو سکے قوت تیار رکھو۔"
علماء کے مطابق قوت میں جسمانی طاقت اور مہارتیں بھی شامل ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں بعض کھیلوں اور مہارتوں کو سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ایک مشہور روایت میں آتا ہے کہ:
"عَلِّمُوا أَوْلَادَكُمُ السِّبَاحَةَ وَالرِّمَايَةَ وَرُكُوبَ الْخَيْلِ"
ترجمہ: "اپنی اولاد کو تیراکی، تیراندازی اور گھڑسواری سکھاؤ۔"
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تیراکی ایک مفید ہنر ہے جسے سیکھنا فائدہ مند ہے۔ تیراکی نہ صرف جسم کو مضبوط بناتی ہے بلکہ انسان کو ہمت، جرأت اور چستی بھی عطا کرتی ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف"
ترجمہ: "طاقتور مؤمن اللہ کے نزدیک کمزور مؤمن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔"
اگرچہ قرآن مجید میں کوئی واضح آیت نہیں ہے
مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کا مبارک ارشاد موجود ہے
اور یہ الفروسیہ میں شامل ہے