گھریلو تربیت کی غفلت اور معاشرتی انحطاط
خامہ بکف✍🏻 محمد عادل ارریاوی
____________________________________
آج کل ہمارا معاشرہ کئی فتنوں اور اخلاقی آزمائشوں سے گزر رہا ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مسلمان گھرانوں میں تربیت اور نگرانی کی کمی کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں غلط راستوں کی طرف چلے جاتے ہیں اور پھر لوگ اس کا سارا بوجھ صرف علما پر ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ علما اپنی ذمہ داریاں اپنے دائرۂ کار کے مطابق ضرور نبھاتے ہیں مگر معاشرتی اور خاندانی تربیت کی بنیادی ذمہ داری والدین اور خاندان پر ہوتی ہے۔
اگر کسی لڑکی یا لڑکے کا طرزِ عمل غلط ہو رہا ہے تو اس کا سب سے پہلا حق والدین پر ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم ماحول دوستیوں اور لباس کے معاملے میں سمجھداری اور ذمہ داری کا ثبوت دیں اولاد اللہ کی امانت ہے اس کی حفاظت تربیت اور نگرانی باپ اور ماں کی اولین ذمہ داری ہے۔
جب کبھی کسی مسلمان بیٹی یا نوجوان کو غلط ماحول میں دیکھا جائے تو دل ضرور دکھتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہماری گھروں کی تربیت میں کہاں کمزوریاں رہ گئیں اچھی تربیت پیار اعتماد اور نگرانی یہی چیزیں بچوں کو لغزشوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں خدارا اپنی بہنوں بیٹیوں اور بیٹوں کی صحیح اسلامی تربیت پر توجہ دیں ان کے دوستوں ان کے ماحول ان کے رویے اور ان کی تعلیم کے معاملات سے باخبر رہیں غفلت کے چند لمحے بعض اوقات زندگی بھر کے پچھتاوے کا سبب بن جاتے ہیں۔
اللہ ربّ العزت پوری امتِ مسلمہ کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ہمارے گھروں میں خیر حیا محبت اور دینی تربیت کو مضبوط فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔