*تعلیم کا چراغ اور ہماری ذمہ داریاں*

آج کافی دنوں بعد ایک عزیز کی شادی میں ایک ایسے بھائی سے ملاقات ہوئی جو DM کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں، وہ ہمارے ہم سبق تو نہیں تھے، لیکن ان کی محبت ان کی شرافت اور ان کی اپنائیت ہمیشہ دل کو یہ احساس دلاتی ہے کہ جیسے وہ بچپن کے گہرے ساتھی ہوں، گفتگو شروع ہوئی تو پرانی یادوں نے ماحول کو بے حد مانوس اور خوشگوار بنا دیا۔

باتوں باتوں میں، میں نے ان سے پوچھا کہ تعلیم اور تیاری کہاں تک پہنچی، وہ پُر اعتماد لہجے میں بولے کہ بھائی دعا کرو، اس بار ان شاء اللہ العزیز ضرور سلیکشن ہوگا ان کی بات سن کر دل میں ایک عجیب سی شادمانی پیدا ہوئی، جیسے اپنے ہی کسی خواب کے پورا ہونے کی امید اُجاگر ہو گئی ہو، جب اپنا کوئی عزیز ترقی کی راہ پر بڑھ رہا ہوتا ہے تو دل کو جو سکون ملتا ہے وہ لفظوں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔

پورا دن ہم نے ساتھ میں گزارا، ان کی باتوں نے مجھے حیران بھی کیا اور متاثر بھی قوم کے لیے کچھ کرنے کی تڑپ، ذمہ داری کا شعور، اور مثبت سوچ کی چمک ان کی ہر بات سے جھلک رہی تھی وہ ہر موضوع ختم کر کے ایک ہی بات دہراتے تھے کہ بھائی قوم کے لیے کچھ کرو ان کی زبان میں درد بھی تھا سچائی بھی تھی اور ایک زبردست پیغام بھی۔

پھر انہوں نے ایک جملہ کہا جو دل میں تیر کی طرح اتر گیا وہ کہنے لگے کہ ہم کسی بھی بڑے میدان تک پہنچ سکتے ہیں، صرف کوشش کی شرط ہے ورنہ میدان سب کے لیے کھلے ہیں، مگر افسوس کہ ہم کوشش کا آغاز ہی نہیں کرتے انہوں نے بتایا کہ جب وہ پہلے سال کی کلاس میں تھے تو وہاں کل 4500 طلبہ تھے مگر ان میں صرف بیس سے تیس مسلمان بچے تھے، سوچنے کا مقام ہے کہ آخر ہم کہاں پیچھے رہ گئے۔

کیا ہمارے بچے پڑھتے نہیں، ضرور پڑھتے ہیں لیکن وہ منزل تک پہنچ نہیں پاتے، ان کی تعلیم کہیں نہ کہیں روک دی جاتی ہے، یا وہ خود ہی کسی موڑ پر مایوس ہو کر رک جاتے ہیں، اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف اتنا پڑھاتے ہیں کہ وہ دسویں پاس کر لیں بارہویں کر لیں یا بی اے کی ڈگری لے لیں لیکن اس کے بعد وہی بچہ جو ایک اعلیٰ مقام کا مستحق تھا بس ایک عام گھاس کاٹنے والا مزدوری کرنے والا یا چھوٹا سا کام کرنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔

آخر کیوں؟

کیا اسی کے لیے ہم نے اس پر پیسہ لگایا تھا؟

کیا اسی کے لیے ہم نے اس کی محنت کو برداشت کیا تھا؟

اگر ہم نے اسی خرچ کے برابر تھوڑا سا اور صبر، تھوڑا سا اور حوصلہ، تھوڑا سا اور وقت دے دیا ہوتا تو وہی بچہ کسی آفس میں کرسی پر بیٹھا ہوتا کسی محکمہ میں عزت سے کام کر رہا ہوتا یا قوم کے لیے کوئی مضبوط سہارا بن چکا ہوتا۔

ہم اپنے بچوں کی تعلیم کو صرف لکھنے پڑھنے تک کیوں محدود رکھتے ہیں، ہندی آ جائے، اردو لکھ لے، انگلیش میں ٹائپ کر لے،کیا یہی مستقبل ہے؟ کیا اسی سے زندگی بدلتی ہے؟ تعلیم وہ ہے جو سوچ بدل دے کردار بنائے اور انسان کو ایک ایسے مقام تک پہنچا دے جہاں اس کی شناخت علم بن جائے۔

ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی اپنے بچوں کو آگے بڑھانا ہوگا انہیں صرف ڈگری نہیں منزل دینی ہوگی قوم کی ترقی گھر سے شروع ہوتی ہے ایک بچہ جب آگے بڑھتا ہے تو پوری نسل کی روشنی بڑھ جاتی ہے۔

آج کی اس ملاقات نے میرا دل بدل دیا، سوچ بدل دی، اور احساس جگا دیا کہ اگر ہم نے اپنے بچوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے بڑھایا، ان کی راہ میں روشنی رکھی اور ان کے خوابوں کی حفاظت کی تو کوئی امتحان کوئی میدان کوئی مقابلہ ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔

ایک تحقیق کی مطابق معلوم ہوتا ہے کہ مسلم پڑھنے والے تمام طلبہ کی تعداد صرف 40% ہے جس میں سے چند تعلیمی میدان میں اعلی مقام تک پہنچتے کچھ دسویں پاس کرکے اسکول چھوڑ دیتے ہیں کچھ بارہویں، کچھ بی اے حتی کہ ہمارے مسلم قوم کے بچے اعلی مقام تک پہنچتے پہنچتے صرف 02% رہ جاتے ہیں اب مجھے بتاؤ جس قوم کے صرف 02% لوگ کامیابی منزل پر پہنچتے ہوں تو ہمیں نوکریاں کیسے مل سکتی ہیں اور ہم نے مسئلہ یہ بنایا ہوا ہے کہ ہمیں نوکریاں نہیں ملتی بھائی کیوں نہیں ملتی ملے گی لیکن اس مقام تک پہنچو تو سہی، کیا آپ نے نہیں دیکھا، ابھی چند سال پہلے مسلمان انسان AI کی دنیا کا بادشاہ بنا ہے اتنی بڑی پوسٹ کی قوم حیران ہے سن سن کر وہ کیسے بن گیا بھائی اسکے پاس تعلیم تھی اسکا تعلیمی معیار اتنا اعلی تھا کہ اسکو اے آئی خرید لیا اور اسکو CO پوسٹ پر رکھا گیا اور اپنے ملک میں نہیں بلکہ امریکہ میں جہاں کے بارے میں بتایا جاتا ہے 99% آبادی اعلی تعلیم یافتہ ہے لیکن پھر بھی ایک دوسرے ملک سے بندے کو بلایا گیا صرف اسکی اعلی تعلیم کی بنیاد پر، میرا کہنا یہ ہے بھائی آپ اس مقام تک پہنچو تو سہی تاکہ لوگ آپکو خریدیں، لیکن ہمارا سسٹم بہت زیادہ تنزلی کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور ہوگا ہی بھائی جس قوم کے فقط02% لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہوں وہ کیسے کسی منزل کو پا سکتے ہیں، بھائی آپ صرف ایک بچے کو پڑھائیں لیکن اسکو اتنا پڑھائیں کہ کسی پلاٹ فارم پر کھڑا ہو سکے، اور پھر ایک دور وہ آئے گا کہ آپ کے گھر کا ہر بچہ اعلی تعلیم یافتہ ہوگا انشاءاللہ العزیز۔

یاد رکھیں ایک تعلیم ہی ایسی روشنی ہے جو آپکو منزل عطا کر سکتی ہے، اور جس گھر میں روشنی بستی ہے، وہاں آنے والی نسلیں اندھیرے میں کبھی نہیں بھٹکتیں،اور ایسی کتنی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں کہ ایک زمانہ تھا ایک بندہ پڑھا لکھا تھا لیکن اب حالت یہ ہے کہ اس گھر کا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہے اور کسی اعلی منصب پر فائز ہے۔


اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، میرے تمام منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔


*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*