شیخ علی الطنطاوي رحمه اللہ فرماتے ہیں:

اگر ہم موسمیات کے دس بڑے بڑے ماہرین کو جمع کر لیں، وہ آپس میں بحث و مناقشہ کریں اور پھر یہ فیصلہ کر دیں کہ آج موسم صاف ہے، لیکن اس وقت بارش برس رہی ہو، تو ان کی بحث و مناقشہ کی کیا حیثیت رہی؟ تجربہ سب سے بڑی دلیل ہے۔
ہمارے اسلاف نے ایک تجربہ کیا، اور ہم نے خود ایک تجربہ کیا۔

اسلاف نے اللہ کے لیے کام کرنے اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے کا تجربہ کیا، تو انہوں نے تیس برسوں میں زمین کے ایک تہائی حصے پر حکومت کر لی، اور کسریٰ اور قیصر کو اکھاڑ پھینکا اس وقت جب فارس اور روم کی حیثیت آج کے امریکہ اور روس جیسی تھی۔
اور ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی پسندی، اشتراکیت اور دین کے احکام سے دوری کا تجربہ کیا، تو ہم اپنی قبلہ اول اور اپنے نبی ﷺ کے معراج والی جگہ سے محروم ہو گئے۔
اور ہمیں کس نے مغلوب کیا؟
ہمیں سب سے ذلیل قوم یہود نے مغلوب کر دیا۔


منقول 
(الذکریات، ٧/١٥٦)