بچپن ہی سے مجھے قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھنا بہت پسند تھا خاص کر سورہ یوسف وہ ایک قصّہ تھا جب بھی قرآن کلاس شروع ہونے سے کچھ وقت باقی ہوتا ہے میں سب سے پہلے وضو کرتی وقت سے پہلے کلاس میں آجاتی اس لیے کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ استاد کے آنے سے قبل میں ایک مرتبہ سورہ یوسف کی تلاوت کر سکوں سورہ یوسف میں نے اتنا پڑھا کہ بچپن ہی میں مجھے سورہ یوسف کا ترجمہ مکمل یاد ہو گیا۔

میں درجہ دوم کی شاگردہ تھی جب میرے استاذ محترم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ اتنا سورہ یوسف کی تلاوت کیوں کرتی ہیں ، میں بس اتنا ہی کہہ پاتی کہ مجھے یہ سورہ بہت زیادہ پسند ہے ۔ 

مجھے یوسف علیہ السلام کا صبر بہت پسند تھا ، اپنوں نے دھوکہ دیا آپ نے صبر کیا، اپنوں نے بے رخی دکھائی آپ نے صبر کیا ، اپنوں نے چھوڑ دیا آپ نے صبر کیا ، زلیخا نے الزام لگایا آپ نے صبر کیا ، آپ کو جیل ڈالا گیا آپ نے صبر کیا، آپ کا ساتھی بادشاہ سے سفارش کرنا بھول گیا آپ نے شکوہ نہیں کیا آپ نے صبر کیا ، آپ نے ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھا ۔

جب آپ کے بھائیوں سے آپ کی دوبارہ ملاقات ہوئی تو کیا آپ نے انہیں چھوڑ دیا تھا ؟ کیا آپ نے ان سے اپنا رشتہ توڑ دیا تھا ؟ کیا آپ نے اپنے بھائیوں کو دھکا دے کر مصر سے نکلوادیا تھا ؟ کیا آپ نے ان سے اپنا بدلہ لیا تھا ؟ نہیں بلکہ آپ نے صبر کیا تھا۔

اب ہم اپنا جائزہ لیں ہم کیا کرتے ہیں ، کسی نے مجھے برا کہا میں بھی اس کو برا کہونگی ، اس نے مجھے چھوڑ دیا میں بھی اس کو چھوڑ دوں گی، میرے رشتہ دار نے مجھ سے رشتہ توڑ دیا تو میں کیوں جاؤں صلح کرنے غلطی تو ان کی تھی ، دوست نے وقت پر فون نہیں اٹھایا تو اس پر بھی غصہ ، کوئی بیماری لگ گئی تو اس پر بھی شکوہ کہ آخر مجھ سے ایسی کیا غلطی ہو گئی کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ، اگر اللہ آزمائش میں ڈال دے تو اس پر بھی شکوہ کی آخر میں ہی کیوں ؟
 
 کیوں آپ کیا ہیں کہ آپ کو بیماری نہیں لگے گی آپ آزماۓ نہیں جائیں گے۔ 

ہم نے صبر کرنا چھوڑدیا ، ہماری ہر بات پر ہمارے ہر معاملے میں زبان پر شکوہ ہی رہتا ہے ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے!   
" کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے چھوڑ دیں گے" ۔ 

جب بھی قرآن پڑھیں ترجمہ سے پڑھیں خواہ وہ ایک ہی آیت ہو ، اس پر غور کیا کریں اور اس کو اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کریں ۔

آپ سب کی پسندیدہ سورہ کون سی ہے ؟

انمول ✍️