ماہِ رمضان تو گیا… مگر الحمدُللہ روح میں باقی ہے....
عید کے دن عبادت اور تمام مصروفیات سے فارغ ہو کر رات تقریباً گیارہ، سوا گیارہ بجے سونے کی تیاری کرنے لگی۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی، کیونکہ رمضان کی عادت تھی کہ پوری رات عبادت میں گزرتی تھی۔ مگر دل یہی چاہتا تھا کہ سو جاؤں تاکہ تہجد نہ چھوٹ جائے۔
آخرکار آنکھ لگ گئی، مگر وقفے وقفے سے کھلتی رہی۔ ایک بار جب آنکھ کھلی تو یوں محسوس ہوا جیسے بہت دیر سو چکی ہوں، شاید اب اٹھنے کا وقت ہو گیا ہے۔ موبائل پر وقت دیکھا تو صرف 1:29 ہو رہے تھے۔
دل میں خیال آیا:
"یا اللہ! ابھی تو کافی وقت ہے… رات اتنی لمبی کیسے ہو گئی؟"
لوگ کہتے ہیں کہ راتیں کبھی لمبی لگتی ہیں اور کبھی چھوٹی، مگر میں نے اس رمضان میں راتوں کو بہت مختصر پایا۔ شاید اس لیے کہ جب عبادت میں دل لگ جائے تو وقت کا احساس ہی نہیں رہتا۔
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
(بے شک اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے)
سوچی، تھوڑی دیر اور سو لوں۔ خود کو مجبور کر کے دوبارہ آنکھیں بند کیں۔ ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا ہوگا کہ 2:30 پر پھر آنکھ کھل گئی۔
دل بے اختیار پکار اٹھا:
"یا اللہ! یہ تو وہی وقت ہے جو رمضان میں تہجد کے لیے ہوتا تھا… تُو نے خود ہی جگا دیا اپنی محبت سے۔ شاید تُو چاہتا ہے کہ میں تجھ سے ویسے ہی باتیں کروں، جیسے رمضان میں کیا کرتی تھی۔"
میں نے ساتھ سوئی بہن کو جگایا:
"اٹھو، نیند نہیں آ رہی… اور دیکھو، تہجد کا وقت بھی ہو گیا ہے۔"
بہن نے مسکراتے ہوئے کہا:
"مجھے بھی نیند نہیں آ رہی… آج کی رات کتنی لمبی لگ رہی ہے، ہے نا؟ رمضان کی راتیں تو کتنی چھوٹی ہوتی تھیں۔"
میں نے کہا:
"ہاں واقعی، رمضان میں راتیں عبادات میں گزرتی تھیں تو وقت کا پتا ہی نہیں چلتا تھا، اور آج سوتے ہوئے گزر رہی ہیں تو کافی لمبی لگ رہی ہیں۔"
پھر ہم دونوں وضو کے لیے اٹھیں۔ ابھی وضو کر کے واپس آئے ہی رہے تھے کہ والدہ ماجدہ بھی جاگ گئیں۔ پھر ہم تینوں نے مل کر تہجد ادا کی۔
"وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ"
(اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہے)
سجدوں میں سر رکھا تو دل نے عجیب سی سکون بھری تھکن محسوس کی… وہی رمضان والی کیفیت… وہی قربت…
یوں لگ رہا تھا جیسے رمضان کہیں گیا ہی نہیں… جیسے وہ بابرکت لمحے ابھی بھی ہمیں ڈھونڈ لیتے ہیں، اگر ہم انہیں بھولیں نہ۔
پھر تلاوت میں دل ایسا لگا کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا… اور دیکھتے ہی دیکھتے فجر قریب آ گئی۔ ہم نے فجر ادا کی… پھر اشراق بھی۔
اس لمحے دل نے بہت آہستہ، بہت گہرائی سے کہا:
"رمضان تو چلا گیا… مگر اگر دل زندہ ہو، نیت سچی ہو، تو اس کی برکتیں کبھی نہیں جاتیں۔ اصل رمضان تو وہ ہے جو انسان کے اندر بس جائے… اور پھر کبھی رخصت نہ ہو۔"
آخر میں دل نے دعا کی:
اے کریم آقا.! مجھ سے ہمیشہ محبت کرتے رہنا۔ اور اپنی یاد سے کبھی غافل نہ کرنا۔
مجھے پورے سال رمضان المبارک جیسی عبادات کرنے کی توفیق عطا فرما،اور میرے دل کو اپنی محبت سے روشن رکھ۔
یا مُقَلِّبَ القُلُوبِ… ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کرنا، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے۔)
🪶از:ح عائش✰