عید کی بے شمار مصروفیات، ذمہ داریاں اور تھکن جیسے پورے وجود میں اتر گئی تھی، دن بھر کی بھاگ دوڑ، گھر کی ترتیب اور مہمانوں کی خاطر داری.... ان سب نے ملکر مجھے اس قدر نڈھال کر دیا کہ مجھے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ کب میری آنکھ لگی اور بستر پر لیٹتے ہی جیسے ہوش کی ڈوری ٹوٹ گئی ہو،پھر اچانک....
آپی اٹھو!فجر نہیں پڑھی کیا؟
یہ الفاظ جیسے کسی گہرے کنویں میں گونج کیطرح میرے دل میں اترتے چلے گئے، گھبرا کر اٹھی، سانس جیسے ایک لمحے کو رک سی گئی، آنکھیں بوجھل تھیں مگر دل ایکدم جاگ اٹھا تھا، کمرے میں روشنی پھیل چکی تھی مطلب سورج طلوع ہو چکا تھا۔
یا اللہ!
کیا واقعی میری فجر رہ گئی؟
یہ سوچ جیسے بجلی بن کر میرے دل پر گری، ندامت نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا تھا، ایک عجیب سا خوف، ایک عجیب سا دکھ میرے اندر بھرنے لگا، کچھ لمحے بیٹھی رہی بالکل خاموش، ساکت جیسے چند لمحے قبل کی سماعتوں (آپی اٹھو، نماز نہیں پڑھی کیا؟) پر یقین نہیں آ رہا ہو، اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ شاید ابھی نماز کا وقت باقی ہو ، شاید الارم ابھی نا بجا ہو، شاید یہ سب ایک خواب رہا ہو مگر حقیقت... وہ تو میرے سامنے کھڑی تھی بالکل واضح، بےرحم
"میری فجر قضاء ہو چکی تھی"
"کہتے ہیں نماز ہم سے چھوٹتی نہیں ہے بلکہ ہماری کچھ خطاؤں کی وجہ سے اللہ خود ہمیں اپنے دَر پر نہیں بلاتا" اور یہی ایک جملہ میرا دل خالی کر دینے کیلئے کافی تھا، یا اللہ مجھ سے کون سی غلطی ہو گئی؟
مجھے کیوں نہیں بلایا اپنے دَر پہ؟
یہ سوال میرے دل کو چیر رہا تھا، مجھے اپنی مصروفیات یاد آنے لگیں، وہ وقت جب میں نے دنیا کو ترجیح دی،
کیا اس مصروفیات کی وجہ سے میں نماز کیلئے اٹھ نہ سکی یا سچ میں اللہ مجھ سے ناراض تھا؟
ان سارے خیالات کو ایک طرف کیا اور پہلے اٹھی، وضو کیا اور قضا نماز کیلئے کھڑی ہو گئی، جاۓ نماز جیسے مجھے دھندھلا دکھائی دے رہا تھا، ہاں شاید آنکھوں میں جمع ہوۓ آنسو کی وجہ سے، وہ آنسو جو ندامت کے تھے، وہ آنسو جو میری اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے تھے اور وہ آنسو جو اللہ کی ناراضگی کا سوچ کر آ رہے تھے۔
ہر رکوع ایک فریاد بن چکا تھا اور ہر سجدہ معافی کی درخواست۔
نماز مکمل ہو گئی مگر دل کی بے چینی ختم نا ہوئی، پھر مجھے اللہ کا نام یاد آیا "غفور الرحیم" میری غلطی بہت بڑی تھی مگر اللہ کی رحمت تو اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے نا،
وہ تو معاف کر دیتا ہے نا،
اس کو اپنے بندوں کا معافی مانگنا تو بہت پسند ہے نا،
بس یہی سوچ کر دل کو تسلی ملی کہ میرا اللہ مجھے بھی معاف کر دیگا اور سچ کہوں تو اللہ کا یہ نام "الغفور" میرا پسندیدہ ہے کیونکہ اسی میں میری امید ہے اور اسی میں میرا سکون بھی۔
جہاں دل میں تھا کہ یا اللہ یہ ندامت، یہ آنسو، یہ احساس... یہ سب کیا ہیں؟ وہیں دل میں ایک نرم سی روشنی اتری، شاید یہ ناراضگی نہیں تھی شاید یہ بلانا تھا مگر ایک مختلف انداز میں، اگر میرا اللہ مجھ سے ناراض ہوتا تو یہ احساس ہی کیوں جگاتا میں تو بے حس ہو کر سوتی ہی رہتی اور مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا،
اسی لمحے دل میں ایک آیت جیسے روشنی بن کر اتر آئی—
"مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ"
( تیرے رب نے نہ تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی تجھ سے ناراض ہوا ہے)
یہ آیت دل کے کسی بہت گہرے حصے میں اترتی چلی گۓ، جیسے میرے اندر بکھرے ہر خوف کو سمیٹنے لگی، اور مجھے یاد دلانے لگی کہ اللہ کو مت بھولو وہ تمہیں بھولا نہیں ہے اور آخرمیں ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی جیسے کسی نے آہستہ سے سرگوشی کی کہ "اللہ ہے نا"
اور دل کو مطمئن کرنے کیلئے یہی ایک جملہ کافی ہوتا ہے۔
یا اللہ! یہ میری آخری کوتاہی ہوگی ان شاء اللہ، مجھے اپنے دَر سے محروم نا کرنا، بلا لیا کر یا رب مجھے اپنے دَر پہ کیونکہ تیرے کُن کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا، میری اس ندامت کو میرے دل کی بیداری بنا دے، میری ہر کوتاہی کو معاف کر دے مولا اور مجھے ان لوگوں میں شامل کردے جو تیری یاد سے غافل نہ ہوں۔