امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ قوتِ حافظہ تیز ہونے کے لیے کیا تدبیر اپنائی جائے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ "کتابوں کا مطالعہ مسلسل جاری رکھا جائے"۔ (اسی سے حافظہ مضبوط ہوتا ہے) (مختصر جامع بیان العلم: ٣٩٨)
لہٰذا جو علم اپنے علم کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، اسے مطالعہ و مذاکرہ کا اہتمام رکھنا چاہیے۔ اس کے بغیر اس کا علم محفوظ نہیں رہ سکتا، اورنہ علمی باتیں اس کے دماغ میں مستحضر رہ سکتی ہیں، اگر مطالعہ کتب چھوٹ جائے تو دماغ میں محفوظ علوم بھی رفتہ رفتہ رخصت ہو جاتے ہیں۔