رمضان المبارک کا پورا مہینہ جہاں رحمتوں کی برسات لاتا ہے
وہیں اس کے کچھ ایام مسلمانوں کو
مسلمانوں کی تاریخ سے آگاہ بھی کرتے ہیں
17رمضان المبارک
غزوہ بدر
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس غزوے میں شرکت کرنے والوں کے انعامات ،رحمتیں،برکتیں،اللہ نے مفصل بیان فرمائی ہیں
اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رحلت
عفیفہ ،طیبہ،طاہرہ نے جہاں عالم اسلام کو علم کا خزانہ دیا
وہیں پر ہی حیا ،پاک دامنی بھی مسلمان خواتین کو سکھائ
اللہ اکبر
سیف من سیوف اللہ
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے
جری،بہادر کی رحلت
نے یہ بتلادیا کہ موت میدان جنگ میں نہیں ہے
لہٰذا اے امت محمدیہ کبھی بھی موت کے ڈر سے جہاد کی عظمت کو پس پشت مت ڈالنا
وگرنہ
فسلط اللہ علیہم الذلہ
ہم نے ان کی نصیحت کو نہ مانا
تو پیغمبر اسلام کی زبان سے نکلے الفاظ پورے ہوئے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رحلت بھی رمضان المبارک میں ہوئی
ان کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ تھی
غرض یہ کہ ہم ان تراشیدہ نگینوں
کے نقش قدم پر چل کر اپنے
رمضان المبارک کی ساعتوں کو بہتر کر سکتے تھے
جہاں مسلمانوں کے لئے
ان جیسی عظیم ہستیوں کا جدا ہونا
بہت ہی بڑا سانحہ تھا
وہاں پر ہی قیامت تک کے لئے
ان کی زندگی مشعل راہ تھی
کہ اگر زندگی ایسی گزاروگے
تو موت پھر تمہیں
مقدس مہینے میں آئیے گی
جب کہ باری تعالیٰ کی رحمتیں ،برکتیں
چھائ ہوئ ہوتی ہیں
مگر ہم تو اس کا لحاظ نہ کر سکے
اے رمضان ہماری شکایت مت کرنا
اے رمضان جیسا کہ اللہ نے آپ کو
برکتوں والا ،رحمتوں والا
بنایا ہے
آپ روز قیامت بھی بأذن اللہ ہماری سفارش کرنا
ہماری کوتاہی کو نہ دیکھنا
اے رمضان المبارک
انشاء اللہ
انگلی مرتبہ
آپ کا استقبال
اپنے سجدوں سے کریں گے
قرآن مجید کی تلاوت سے کریں گے
دل کی پاکیزگی سے کریں گے
ظاہری وباطنی طہارت سے کریں گے
نظر کی حفاظت سے کریں گے
سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کریں گے
احکام خداوندی کو بجا لائیں گے
آپ بس جاتے ہوئے
مغفرت رحمت برکات
میں سے وافر مقدار میں
ہمیں بھی شامل کرتے جانا
الوداع اے رمضان
الوداع
الوداع