*ملحدین کے اعتراضات اور انکے جوابات*
اللہ رب العزت جسے چاہتا ہے ایمان عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے کفر تو گویا یہ تو اللہ کی منشا ہے جسے چاہے کفر دے اور جسے چاہے ایمان عطا فرمائے پھر عذاب کا مستحق بندہ کیوں جو ایمان نا لائے؟
دلیل قرآن پاک کی آیات (فَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)
ترجمہ: پس اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے
2: (وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)
ترجمہ: اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔
3: (فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ)
ترجمہ:اللہ جسے ھدایت دینا چاہتا ہے اسکے سینے کو کھول دیتا ہے اسلام کے لئے۔
اور بہت سی آیات ہیں جو آپکو قرآن سے حاصل ہو جائیں گی، اور یہ تمام آیات دال ہیں اس بات پر کہ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے وہ جسے چاہتا ہے ھدایت عطا فرماتا ہے اسلام کی دولت سے نوازتا ہے۔
اب دیکھیے ذرا ملحدین کے نظریہ فکر اور انکے دماغوں میں بھری ہوئی گندگی:
*ملحدین کا اعتراض: جب ھدایت دینا اللہ کی شان ہے قرآن کے ثبوت کے ساتھ، پھر یہ عذاب بندے پر کیوں؟ ان پر جو اللہ پر ایمان نہیں لائے جبکہ اللہ چاہتا تو ھدایت عطا فرماتا جب اس نے ھدایت کو چاہا ہی نہیں تو مسلمان ناہونے کی صورت میں عذاب کا مستحق کیوں؟*
آگے چلیں:
چلو تسلیم کر لیا جائے کہ اللہ نے ھدایت کو چاہا لیکن بندے نے حاصل نہیں کی تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ جس کام کو چاہتا ہے اسکا نا ہونا بھی ممکن ہے اور جس کے قول کے میں ناہونے(عدم) کا امکان ہو وہ عاجز ہوتا ہے اور جو عاجز ہوتا ہے وہ خدا نہیں ہوتا تو گویا خدا کا ناہونا لازم آیا، یا پھر ایسا خدا ہونا لازم آیا جو عاجز ہو، جو عاجز ہو وہ خدا نہیں؟
اصول یہ ہے جس کے افعال میں عدم (عدم اس معنی کر کہ وہ نا ہو جسے خدا چاہے)کا امکان ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا تو یہ تمام باتیں اس پر دال ہیں کہ خدا نہیں؟
(باسمہ تعالٰی جلَّ جلاله وعمَّ نواله)
*الجواب بعون الله الملك الوهاب*
اعتراض(1)
اگر ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے، تو وہ ان لوگوں کو عذاب کیوں دے گا جنہیں ایمان نصیب نہیں ہوا؟
*الجواب بتوفيق الله العزيز العلام*
اللہ تعالیٰ ہدایت ضرور دیتا ہے، مگر وہ بندے کو اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا رد کرے, جو لوگ خود جان بوجھ کر حق کو رد کرتے ہیں، وہی عذاب کے مستحق ہوتے ہیں۔
عـــــــقـــلــــی دلــــائــــــــل
اختیار اور ذمہ داری اگر کوئی طالب علم استاد کے سمجھانے کے باوجود جان بوجھ کر امتحان میں فیل ہو جائے، تو کیا استاد کو موردِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ بالکل نہیں! اسی طرح، اگر بندہ خود ہدایت کو رد کرے، تو سزا اس کی اپنی غلطی ہوگی،
انصاف کا اصول یہ کے قانون کے مطابق اگر کوئی مجرم جرم کرے، تو وہ سزا پاتا ہے، چاہے حکومت اس کی اصلاح کر سکتی ہو، یہی اصول اللہ کے عدل میں بھی ہے کہ وہ ہدایت ضرور دکھاتا ہے، مگر زبردستی کسی کو مجبور نہیں کرتا۔
ہدایت کی نشانیاں ہر طرف موجود ہیں کائنات، انسان کی فطرت اور آسمانی کتب سب ہدایت کی نشانیاں ہیں، جو شخص جان بوجھ کر ان کو نظر انداز کرے، وہ خود اپنی تباہی کا ذمہ دار ہے۔
اگر اللہ سب کو زبردستی ایمان دے دیتا، تو پھر دنیا میں آزمائش کا کوئی مطلب ہی نہ رہتا، امتحان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے اختیار سے صحیح اور غلط کا انتخاب کرے۔
اگر اللہ نے بندے کو اتنی عقل و شعور دی ہے کہ وہ اپنے فائدے اور نقصان کو سمجھ سکے، تو اس پر جزا و سزا بھی اسی بنیاد پر دی جائے گی، اگر بندے کے پاس کوئی اختیار نہ ہوتا، تو پھر وہ حساب و کتاب کا مستحق بھی نہ ہوتا۔
*نـــــقــــــلــــــی دلــــــــائــــــــــــــل*
(1) اور آج تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گا جب تم نے ظلم کیا کہ تم عذاب میں برابر کے شریک ہو،
یعنی اللہ کا عذاب کسی پر بغیر کسی وجہ کے نہیں آتا، بلکہ ان کے اپنے ظلم اور گناہ کی وجہ سے آتا ہے۔
(2) اور ہم کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے جب تک کہ ان کے پاس رسول نہ بھیج دیں،
اللہ ہر ممکن طریقے سے ہدایت واضح کرتا ہے، اور پھر عذاب اسی پر ہوتا ہے جو جان بوجھ کر انکار کرے اور پھر بات یہی ہے کہ اگر کوئی غلام اپنے آقا کی بات نا مانیں تو سزا کا مستحق تو ہوگا سب ذی شعور لوگ جانتے ہیں۔
اعتراض 2
اگر اللہ چاہتا کہ سب ایمان لے آئیں، تو کسی کو کافر ہونے کی اجازت ہی نہ دیتا اس کا مطلب ہے کہ یا تو اللہ عاجز ہے، یا وہ چاہتا ہے کہ لوگ کافر ہوں؟
*الجــــواب بــــعـــــــــون الــــلــه المــلــك الـــعالـــــمـــــــيـــن*
اللہ کا کسی کو زبردستی ایمان پر مجبور نہ کرنا اس کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی حکمت ہے اس نے امتحان کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے بندے کو آزادی دی ہے،طالب علم کو امتحان سے پہلے پڑھنے اور نا پڑھنے دونوں کا اختیار ہوتا ہے۔
عـــــــــــقــــــلــــی دلــــــــــــائـــــــل
آزمائش کے بغیر کامیابی بے معنی ہے اگر تمام طلبہ کو بغیر امتحان کے پاس کر دیا جائے، تو اس ڈگری کی کوئی وقعت نہیں رہتی، اسی طرح، اگر سب زبردستی مؤمن بنا دیے جائیں، تو نیکی اور بدی میں فرق ختم ہو جائے گا، اور اللہ تعالٰی کا وہ آزمانے والی ترغیب کا مطلب کیا ہو گا پھر اللہ کا ڈرانہ وعیدات کرنا سب بے معنی ہو ہو جائیں گی۔
اختیار کی حکمت اگر اللہ چاہتا، تو سب کو زبردستی نیک بنا سکتا تھا، مگر اس کا مقصد یہ ہے کہ بندے خود اپنی مرضی سے صحیح راستے کا انتخاب کریں۔
حق واضح ہے، مگر جبر نہیں جیسے سورج کی روشنی ہر جگہ پہنچتی ہے، مگر کوئی شخص جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لے، تو یہ اس کی اپنی غلطی ہوگی، نہ کہ سورج کی، مجبوری کے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں اگر کوئی شخص صرف اس لیے نیک ہو کہ اسے زبردستی مجبور کر دیا گیا ہے، تو اس کی نیکی کی کوئی قیمت نہیں۔
*اللہ کی مشیّت کی دو قسمیں ہیں*
*(1) تکوینی مشیّت: جو اللہ چاہے، وہ لازمی ہوتا ہے (جیسے سورج کا نکلنا چاند کا وقت مقررہ پر ڈوب جانا)*
*(2) تشریعی مشیّت اللہ چاہتا ہے کہ لوگ ایمان لائیں، مگر وہ انہیں اختیار بھی دیتا ہے*
*شـــــــــرح الـــعقـــائد الــــنســـــفـــی*
سورۃ یونس (99)
اور اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے، پھر کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو تاکہ وہ ایمان لے آئیں؟
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ نے امتحان کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے اختیار دیا ہے۔
سورۃ الکہف (29)
اور کہہ دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
یعنی اللہ نے راستہ دکھا دیا، مگر انتخاب کا حق بندے کو دیا گویا بندہ مختار ہے مجبور محض نہیں جیسے کہ ملحدین سمجھانا چاہتے۔
اعتراض:
اگر اللہ جو چاہے کر سکتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی کافر ہو گیا، تو یہ بھی اللہ کی ہی مرضی تھی پھر بندے کو قصوروار کیوں ٹھہرایا جائے؟
*الجـــــــواب بــعـــون الـــلـه تــعـالــى*
یہ اعتراض مشیّتِ الٰہی کو غلط سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اللہ نے بندے کو اختیار دیا ہے، اور بندہ اپنے اختیار سے جو راستہ چنتا ہے، اسی پر وہ ذمہ دار ہوگا، جیسے چرواہا بکریاں چرائے اور اسکو اختیار ہے جہاں چاہے لے کے جائے اگر وہ انکو کسی خطرے کی جگہ لے کے جاتا ہے تو یہ چرواہے کی غلطی ہے جسکی وجہ سے بکریاں تکلیف زدہ ہوں گی۔
*عــــقــــــلــــــــی دلـــــــــائـــــل*
ہدایت دینے کا مطلب زبردستی مومن بنانا نہیں، اللہ راستہ دکھاتا ہے، مگر کسی کو مجبور نہیں کرتا، جیسے استاد سمجھاتا ہے، مگر طالب علم کو امتحان میں خود جواب دینا ہوتا ہے،
انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے اگر کوئی شخص نشہ کرے اور اپنی صحت برباد کر لے، تو کیا اس کا قصور حکومت پر آئے گا جس نے نشہ بیچنے پر پابندی لگائی تھی؟ نہیں، بلکہ وہ خود قصوروار ہوگا۔
امتحان کا نظام یہی ہے اگر اللہ صرف ان ہی کو مؤمن بنائے جو وہ چاہے، اور دوسروں کو کافر ہی رکھے، تو پھر جزا و سزا بے معنی ہو جائیں گی، ہدایت قبول کرنا انسان پر منحصر ہے جیسے اگر بارش ہو رہی ہو، مگر کوئی چھتری نہ کھولے اور خود کو بھیگنے دے، تو کیا بارش کو قصوروار کہا جا سکتا ہے؟
اللہ کی حکمت کے خلاف سوال اٹھانا یہ انسان کی عقل سے بالاتر ہے کیونکہ ایک انسان کی عقل محدود ہے، جبکہ اللہ کی حکمت لامحدود ہے، اگر ایک بچے کو ڈاکٹر زبردستی دوائی نہ دے اور وہ بیماری میں مبتلا ہو جائے، تو کیا ڈاکٹر پر الزام دیا جا سکتا ہے؟ تم دوا نا دئے نہیں بلکل نہیں، کیونکہ اسکی مرضی ہے چاہے دوا دے چاہے نا دے۔
*نــــــــــــــقــــلـــی دلــــائــــــــــل*
سورۃ النساء
رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا، تاکہ لوگوں پر اللہ کے خلاف کوئی حجت نہ رہے،
یعنی کسی کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہوگا کہ اسے ہدایت نہیں ملی۔
سورۃ النحل (36)
اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگوں سے کہا) اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو، پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی،
یعنی اللہ نے دونوں راستے واضح کر دیے، اب اختیار بندے کے لئے ہے کفر اختیار کرے یا پھر ایمان، اللہ نے کسی کو مجبور محض نہیں بنایا۔
عرض:میں کاتبین حضرات سے عرض گزار ہوں اس وقت ملحدین کا بہت زور ہے اور وہ طرح طرح کے سوالات کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ہم نے صرف اپنے لوگوں کو سمجھانا ہےکہ وہ نا بھٹک سکیں تو اس طرح کے سوالات اور جوابات بھی تحریر کرکے ڈالا کریں۔
ابھی کل کی بات ہے ایک ملحد نے ایک بھائی سے اعتراضات کئے کئی چیزوں کو لیکر اسی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضور اکرم ﷺ کے والدین کے ایمان کے بارے میں(انہوں نے میرے پاس فون کیا بات کی اب میں نے جوابات کی کوشش کی ہے ابھی ذرا مکمل تیار نا ہو سکے ہیں جب ہو جائیں گے میں بھیج دوں گا) کیونکہ بھائی وہ کوئی بھی نکتہ تلاش کرتے ہیں اسلام کو بدنام کرنے کا اور اسلام پر انگلی اٹھانے آپ حضرات اس پر توجہ دیں۔
جزاكم الله خيرا كثيرا و احسن الجزاء في الدارين۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*