غزہ: راکھ تلے سسکتے رمضان کا اداس اختتام

جب ماہِ صیام کی آخری ساعتیں قریب آتی تھیں تو گزشتہ برسوں میں غزہ ایک ایسے تاب ناک شہر کا منظر پیش کرتا تھا، جو کبھی سوتا نہیں تھا۔ اس کی گلی کوچے رنگ برنگے فانوسوں سے جگمگا اٹھتے تھے، مساجد کے منبرو محراب نمازیوں کے ازدحام سے پرنور ہوتے تھے اور گھروں کے آنگن افطار کے دسترخوانوں اور عزیز و اقارب کی پُر تپاک ملاقاتوں سے مہک اٹھتے تھے۔ مگر آج یہ تمام مناظر کسی بیتے ہوئے خواب کی طرح دھندلا چکے ہیں۔ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ سفاکیت اور طویل محاصرے نے غزہ کی پٹی کا چہرہ ہی مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ سکون اور باہمی الفت کا یہ مقدس مہینہ اب ایک ایسے بوجھل موسم میں بدل گیا ہے، جہاں عبادت کے ہر لمحے میں اضطراب کی آمیزش ہے اور جہاں روایتی دسترخوانوں کی جگہ خیراتی لنگر خانوں اور کچن کے باہر لگی بھوکے پیاسے روز ہ داروں کی لمبی اور حسرت زدہ قطاریں نظر آتی ہیں۔
یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ غزہ کی پٹی میں رمضان المبارک ایک ایسی خوں ریز اور تباہ کن جنگ کے سائے میں جلوہ گر ہوا ہے، جس نے مکانات کو ملبے کا ڈھیر اور بنیادی ڈھانچے کو راکھ بنا دیا ہے۔ قابض اسرائیل کی طرف سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی نے بیس لاکھ سے زائد انسانوں کو ایک ایسے بدترین انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جس کی مثال تاریخِ انسانی میں کم ہی ملتی ہے۔ اگرچہ یہاں کے ستم رسیدہ باسیوں کو امید تھی کہ شاید کوئی جنگ بندی کا معاہدہ ان کے دکھوں کا مداوا کر سکے گا، مگر زمینی حقائق آج بھی انتہائی تلخ اور ناگفتہ بہ ہیں۔ قابض اسرائیل کی طرف سے مسلسل اشتعال انگیزیوں اور معاہدو ں کی خلاف ورزیوں نے روزمرہ زندگی کو شدید بے یقینی اور خوف کی چادر میں لپیٹ رکھا ہے۔
آہوں اور سسکیوں کے اس ماحول میں اب افطار کے وہ دسترخوان نہیں سجتے، جہاں کبھی خاندان بھر کے لوگ اکٹھے ہوا کرتے تھے اور نہ ہی اب مائوں کے ہاتھ سے بنے پکوانوں کی خوشبو آتی ہے۔ آج ہزاروں خاندان اپنی بقا کے لیے خیراتی لنگر خانوں سے ملنے والے محدود کھانے کے منتظر رہتے ہیں، کیونکہ قوتِ خرید ختم ہو چکی ہے اور روزگار کے تمام ذرائع قابض دشمن کی سفاکیت کی نذر ہو چکے ہیں۔
غزہ شہر کے مغرب میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں ابو سامر الخطیب اپنے خیمے کے باہر ساکت بیٹھے اس امدادی کھانے کی راہ تک رہے ہیں، جو انہیں روزانہ ایک خیراتی لنگر خانے سے ملتا ہے۔ اس خوں ریز جنگ سے قبل وہ ایک خوشحال تاجر تھے، جن کی یہ تمنا ہوتی تھی کہ ان کا دسترخوان اولاد اور پوتے پوتیوں کی رونق سے بھرا رہے، مگر آج تقدیر نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کی شریکِ حیات ام سامر کہتی ہیں کہ رمضان اب وہ خوشیاں نہیں لاتا جو دہائیوں سے اس خاندان کا اثاثہ تھیں۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ہفتوں پہلے اس پاک مہینے کی تیاری کرتے تھے، گھر کو فانوسوں سے سجاتے تھے اور رشتہ داروں کی دعوتیں کرتے تھے، مگر اب ان یادوں کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔ وہ بتاتی ہیں کہ خاندان کے افراد غزہ کی پٹی کے مختلف گوشوں میں بکھر چکے ہیں اور اس جنگ کے دوران کئی پیاروں کی شہادت نے "رمضان کی رونق” کو ہمیشہ کے لیے چھین لیا ہے۔ وہ نم آنکھوں سے کہتی ہیں کہ اب ہم کھانے کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ اس لنگر کے منتظر رہتے ہیں جو ہمیں زندہ رکھنے کے لیے مل جائے۔
غزہ شہر کے مشرقی محلوں میں جہاں موت ہر وقت سروں پر منڈلاتی ہے، وہاں زندگی سانسوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ وہاں مقیم لیلیٰ ابو العبد کا کہنا ہے کہ اس برس رمضان مسلسل سہمے ہوئے لمحات میں گزر رہا ہے۔ ان کے شوہر گزشتہ کئی ماہ سے قابض اسرائیل کی قید میں ہیں اور وہ ان مساجد کے لیے تڑپتی ہیں، جہاں وہ نماز تراویح اور دینی محافل کے لیے جایا کرتی تھیں۔ علاقے کی اکثر مساجد کو قابض دشمن نے شہید کر دیا ہے، جس کی وجہ سے رمضان کی روحانی فضا اب خیموں کی تنگی میں سمٹ گئی ہے۔ لیلیٰ کہتی ہیں کہ اب راتیں پرسکون نہیں رہیں، کیونکہ فضا میں ڈرون طیاروں کی منحوس آوازیں اور مسلسل فائرنگ بچوں کے معصوم ذہنوں پر گہرے زخم لگا رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بچے افطار کے انتظار سے زیادہ ان خوفناک آوازوں سے سہم جاتے ہیں۔
ان تمام مصائب کے درمیان سب سے گہرا زخم ان اپنوں کی جدائی ہے، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے یا لاپتہ ہیں۔ محمد الحاج جو تین بچوں کے باپ ہیں رمضان کے ہر دن افطار کے وقت اس خالی کرسی کو دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں، جہاں ان کا بیٹا کریم بیٹھا کرتا تھا۔ کریم کئی ماہ قبل ایک حملے کے دوران لاپتہ ہوگیا تھا اور اب تک اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ غمزدہ باپ بتاتا ہے کہ کریم رمضان کے آخری عشرے میں سب سے زیادہ متحرک ہوتا تھا اور گھر میں تلاوت قرآن اور قیام اللیل کا اہتمام کرتا تھا۔ اس کی چھوٹی بہن نے اب بھی اس کا مصحف اپنے بستر کے سرہانے رکھا ہوا ہے کہ شاید کسی دن اس کا بھائی واپس آئے اور اپنی تلاوت کا سلسلہ وہیں سے جوڑ دے جہاں سے ٹوٹا تھا۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینی اب بھی لاپتہ ہیں جو اس نسل کشی کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔
ماہِ رمضان اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، مگر اہل غزہ کے لیے یہ مہینہ نقصانات اور کٹھن یادوں کا ایک طویل تسلسل ثابت ہوا ہے۔ وہ تمام روایات اور خوشیاں جو اس مہینے کا خاصہ تھیں، اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں اور ان کی جگہ محض جان بچانے اور نوالہ تلاش کرنے کی تگ و دو نے لے لی ہے۔ تاہم ان تمام تر مظالم کے باوجود غزہ کے غیور باسی صبر اور دعا کے سہارے اس مبارک مہینے کی روح کو تھامے ہوئے ہیں اور پرامید ہیں کہ ایک صبح ایسی بھی آئے گی، جب یہ اجڑا ہوا شہر اپنی تمام تر رونقوں، بازاروں اور بھرے ہوئے دسترخوانوں کے ساتھ دوبارہ مسکرائے گا۔