__________________________________________

*🌻صدقة الفطر کا مصرف(2)*

[1] صدقۃ الفطر اپنے اصول (ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اسی طرح اوپر تک) اور فروع (بیٹا بیٹی، پوتا پوتی اور نواسا نواسی اسی طرح نیچے تک) کو دینا جائز نہیں ہے۔

[2] بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو اپنا صدقۃ الفطر نہیں دے سکتا۔

[3] بھائی بہن، بھتیجا بھتیجی، بھانجا بھانجی، چچی، پھوپا پھوپی، خالو خالہ، ماموں، ممانی، سسر، ساس، سالہ، بہنوئی، سوتیلا باپ، سوتیلی ماں ان سب رشتہ داروں کو صدقۃ الفطر دینا درست ہے بشرطیکہ یہ غریب اور مستحق ہوں۔

[4] صدقۃ الفطر غیر مسلم کو دینا جائز نہیں۔

[5] خاندان بنو ہاشم کو صدقۃ الفطر دینا جائز نہیں ہے۔ بنو ہاشم سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت علی رضی ﷲ عنہ، حضرت عباس رضی ﷲ عنہ، حضرت جعفر رضی ﷲ عنہ، حضرت عقیل رضی ﷲ عنہ اور حضرت حارث بن عبد المطلب رضی ﷲ عنہ کی اولاد اور ان کے نسب سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس لیے ان کی مدد صدقۃ الفطر کے علاوہ دیگر رقوم سے کی جائے۔

[6] اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک بنی ہاشم سے ہو اور دوسرا غیر بنی ہاشم سے ہو تو جو غیر بنی ہاشم سے ہو اس کو صدقۃ الفطر دی جا سکتی ہے۔ اگر باپ بنی ہاشم سے ہو تو اس کی اولاد بھی بنی ہاشم سے شمار ہو گی۔ اگر باپ غیر بنی ہاشم سے ہو، بیوی بنی ہاشم سے ہو تو اولاد غیر بنی ہاشم شمار ہو گی کیونکہ نسب میں باپ کا اعتبار ہوتا ہے، ماں کا نہیں۔

[7] اگر استاذ غریب ہے اور نصاب کا مالک نہیں ہے تو شاگرد کے لیے استاذ کو صدقۃ الفطر دینا جائز ہے بلکہ مستحق استاذ کو صدقۃ الفطر دینے کا ثواب زیادہ ملے گا۔

[8] مستحق ملازمین کو بطور تنخواہ صدقۃ الفطر کی رقم دینا جائز نہیں۔ ہاں تنخواہ کے عنوان کے علاوہ ویسے امداد کے طور پر دے دی جائے تو جائز ہے۔

[9] کئی افراد کا صدقۃ الفطر ایک شخص کو دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک فرد کا صدقة الفطر بھی کئی افراد کو دیا جا سکتا ہے۔

[10] ایسی NGOs اور ادارے جو شرعی حدود کا لحاظ نہیں کرتے، انہیں صدقۃ الفطر دینا جائز نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب 
__________________________________________