ایک تعارف،
جسے سن کر روح خوشی سے جھوم اٹھے…
وہ ایک ایسی باکمال شخصیت ہیں
جنہوں نے
صرف 9 برس کی عمر میں قرآنِ کریم حفظ کیا ابتدائی عمر ہی سے علمِ دین کا ذوق ایسا
کہ دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارے سے وابستہ ہوئے،
جہاں ان کی صلاحیتوں نے اور بھی نکھار پایا۔
جب انہوں نے پہلی بار محراب میں کھڑے ہو کر قرآن سنانا شروع کیا،
تو پھر یہ سلسلہ ایسا چلا کہ وقت بھی حیران رہ گیا۔
ایک دو نہیں، پورے پچاس (50) محراب انہوں نے اس استقامت اور مہارت کے ساتھ سنائے کہ کبھی ایک بار بھی ناغہ نہ ہوا۔
2024 کی شبِ برات آئی…
مگر اس بار منظر کچھ اور تھا۔
اچانک فالج (پیرالائز)۔ ہو گیا
اور وہ اپنی زندگی کا اکاونواں (51واں) محراب نہ سنا سکے
یہ لمحہ ان کے لیۓ ایک آزمائش بن گیا۔
یہ کوئی اور شخصیت نہیں…
یہ ہمارے اپنے سگے تایا ابو ہیں۔
ان کے قرآن ایسا یاد کہ سن نے والا تو بے فکر ہی رہتا تھا
ہمارے بڑے تایا ابو، جو خود پچیس پاروں کے
حافظ ہیں،
ان کا تراویح میں قرآن سنتے تھے۔
لقمہ دینے کی ضرورت بہت کم
آتی۔
ایک واقعہ تو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے:
ایک مرتبہ بھائی قرآن سن رہے تھے انہوں نے
بتایا کہ 15وے پارے پے جاکے اٹکے تھے مولانا
ماشاءاللہ ❤️
آپ سب سے دعاؤں کی درخواست
اللہ تعالیٰ ہمارے تایا ابو کو کامل صحت عاجلہ عطا فرمائے،
اور انہیں دوبارہ محراب میں کھڑے ہو کر قرآن سنانے کی توفیق نصیب فرمائے۔
یا اللہ! ان کی اس عظیم خدمتِ قرآن کو قبول فرما،
اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے،
اور ہمیں بھی قرآن سے سچی محبت اور وابستگی نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
عائشہ ❤