استنبول کی جامع مسجدِ الفاتح میں ترک خواتین نے مسجدِ اقصیٰ کی بندش کے خلاف ایک انوکھا احتجاج کیا۔ گذشتہ شب خواتین نے احتجاجاً مسجد کی بالکونی سے مرد نمازیوں پر اپنے حجاب پھینکے۔
حجاب کے کناروں پر تحریر درج تھی:
"مسجدِ اقصیٰ مسلمان مردوں کی عزت ہے۔ اپنی عزت کا دفاع کرو!
اے امت! اُٹھ کھڑی ہو، تمہارا قبلہ اوّل بند ہے۔"
جب عورتیں اپنا حجاب اتار پھینکیں تو سمجھ لو کہ مردوں کی غیرت خاک میں مل چکی ہے۔
خواتین کا یہ احتجاجی عمل سرکشی نہیں، بلکہ مردوں کی غیرت جگانے کے لیے تھا
نوٹ؛ خواتین نے اپنے سروں سے حجاب نہیں اتار کر نہیں پھینکے، بلکہ اس احتجاجی عمل کے لئے اضافی حجاب ساتھ رکھے تھے، جن پر تحریری پیغامات بھی درج تھے
یقیناً ہم سمجھتے رہے کہ شاید ہمارے جوانوں کو میدان جنگ سے ڈرانے والی خواتین ہی ہیں
مگر اس سے پتہ چلاہے کہ ہم خود ہی بزدل ہیں
بلکہ ہم تو خواتین سے بھی زیادہ بزدل ہیں
کہ اپنی عزت کو تار تار ہوتا دیکھ کر بھی آرام سے بیٹھے ہیں
ہماری عزت لوٹنے والے لاکھوں میں ہیں
جبکہ ہم اربوں کی تعداد میں ہو کر بھی خوار ہیں کاش کہ ہم تھوڑی سی مقدار میں ہی خواتین سےں
یہ بہادری
یہ غیرت
یہ جذبہ
یہ ولولہ
یہ محبت
یہ جانثاری
یہ وفاداری
یہ شجاعت
یہ جرأت
یہ ہمت
مل جاتی تو آج اقصیٰ کے دروازوں پر قفل نہ ہوتا
تراویح پڑھنے پر پابندی نہ ہوتی
اب بھی وقت ہے
!جوانوں میدان پکار رہا ہے !
جلدی کرو کہیں دیر نہ ہو جائے