ہم خوار ہوۓ تارک قرآں ہوکر 

 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب 
گرہ کشا ہے ،نہ رازی نہ صاحب کشاف

        قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے جسے ام الکتاب کہاگیا اور جس کی آیتیں پر مغز ، پر اثر اور معنی خیز ہے ،جس میں لوگوں کےلیے ہدایت کے اسباب 
موجود ہے ،جس میں تمام مسائل کا حل ہے،جس کے پڑھنے اور تلاوت کرنے میں ایک الگ ہی لطف ہے -

     اس کو حفظ یاد کرنا اور اس کو دل میں محفوظ رکھنا سراپا اجرو ثواب ہے، اس کی مثال اس خوشبو کی ہے جو ڈبیے میں ہو اگر اس کے ڈھکن کھول دیا جاۓ تو اس کے ارد گرد تمام لوگ خوشبوؤں سے معطر ولالہ زار ہوتے ہیں اوراگر بند ہو تو یہ خود صاحب عطر کی حسن ذوق اور مزاج کی لطافت کی واضح دلیل ہے،بعینہ ایک حافظ قرآن اگر قرآن حفظ کرتاہے ، اس کی تلاوت کرتاہے تو اطراف واکناف کے لوگ اس کی برکتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ،اگر خاموش رہے یا نیند میں رہے تو صاحب قرآن کےلیے یہ باعث فضیلت ہے کہ اس کا دل قرآن جیسی عظیم الشان کتاب سے وابستہ اور مربوط ہے-

قرآن کی اہمیت وفضیلت خود آیات وآثار کی روشنی میں واضح وعیاں ہے -
   اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 
"خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ " 
تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھاۓ
قرآن کی محفل دنیا سب سے بہترین محفل ہیں ،ایسی سراپا برکت اور اللہ تعالیٰ خاص عنایت ہوتی ہے- 
      قرآن کریم کی تلاوت میں اللہ رب العزت نےوہ لطف رکھی ہے مسلمان اس کی تلاوت مسلسل کرتے ہیں ایک مرتبہ پورا ہو جاتا ہے تو دوبارہ اس کو شروع کردیتے ہیں لیکن پڑھ کر اکتاتے نہیں ہیں ،بوریت محسوس نہیں کرتے ،
اس کی آیتوں کو پڑھ قلبی سکون اور روح کو طمانیت سے دیتاہے 
باطن کی صفائی ہوتی ہے ،قلب رب کی طرف متوجہ ہوتاہے ،
     تلاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ براہ راست کلام کرتا ہے ،اس کی آیتوں میں شفا ہے جس کی خود ان شفاء و رحمۃ للمؤمنین ،وشفاء لما فی الصدور ،فیہ شفا للناس جیسی آیت سے ہوتی ہے،
قرآن کریم روحانی وجسمانی دونوں کے امراض کے شفا ہے اور زہر کےلیے تریاق بھی 
   یہ کتاب ہدایت ہے جس سے سینکڑوں لوگوں نے منزلیں پائی ،سینکڑوں لوگوں کی زندگی میں انقلاب آیا -
     جس ذات اقدس پر یہ کتاب نازل ہوئی انہوں نے اسی کتاب کے ذریعے ایک ایسے افراد کو تیار کیا جو ہر طرح اوصاف حمیدہ کا پیکر تھی 
قرآن جیسی کوئی کتاب نہ پہلے تھی اور نہ بعد میں ہوسکتی ہے ،بے شمار لوگوں نے اس جیسی کتاب تیار کرنے کوشش کی پر وہ عاجز وقاصر رہے
 
کیوں کہ حدیث قدسی ہے 
فضل کلام اللہ علی سائر الکلام کفضل اللہ علی خلقہ 
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 
ان الذی لیس فی جوفہ شئی من القرآن کالبیت الخرب 
جس کے دل میں قرآن کی ایک آیت بھی نہ ہو وہ ویران گھر
 کی طرح کے
(مشکوٰۃ شریف جلد باب فضائل القرآن)
   قرآن کریم سراپا ہدایت اس کے معانی وہ الفاظ دونوں اثر انداز ہوتے ہیں 
      ہمیں چاہیے ہم قرآن کریم کو خود کو وابستہ رکھیں ،تبھی جاکر ہم دنیا میں ایک معزز قوم بن سکتے ہیں ،ورنہ ہم زمانہ میں رسوا ہوتے رہیں گے 
      اسی کوشاعر مشرق علامہ اقبال نے کہاتھا 
      وہ معزز تھے زمانے مسلمان ہوکر
      اور ہم خوار ہوۓ تارک قرآں ہوکر