فیصلہ بہار کا 14 نومبر کی صبح کا انتظار


✍🏻خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

-------------------------------------------------


محترم قارئین بہار کی فضاؤں میں اس وقت ایک عجب سا سکون بھی ہے اور ایک انجانا سا جوش بھی ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے عوام نے اپنی ذمہ داری نبھا دی ہے گاؤں سے لے کر شہروں تک بزرگوں سے لے کر نوجوانوں تک ہر ہاتھ میں امید کا چراغ تھا ہر نگاہ میں بہتر کل کا خواب اب سب کی نظریں 14 نومبر پر ٹکی ہیں وہ دن جب صندوقوں میں بند عوام کی آواز فیصلہ بن کر سامنے آئے گی کہیں دل میں امید کے پھول کھِل رہے ہیں تو کہیں بے چینی کے بادل چھائے ہیں ہر سیاسی کیمپ میں سرگوشیاں ہیں چہروں پر مسکراہٹ بھی ہے اور تشویش کے سائے بھی یہ وقت عوام کے صبر کا ہے جمہوریت کے حسن کا ہے کیونکہ ووٹ دینے کے بعد عوام کا فرض ختم نہیں ہوتا بلکہ ان کی نگاہ اب اس فیصلے پر رہتی ہے جو اُن کے مستقبل کا رخ طے کرے گا

14 نومبر کو صرف نتیجہ نہیں آئے گا بلکہ بہار کی ایک نئی صبح طلوع ہوگی خواہ وہ کسی کے لیے خوشی کی ہو یا کسی کے لیے سبق کی مگر ایک بات طے ہے بہار نے ایک بار پھر اپنی جمہوری روح کو زندہ رکھا ہے اور یہی سب سے بڑی جیت ہے

اے اللہ ربّ العزت بہار کے اس فیصلے میں حق اور انصاف کا بول بالا فرما جس کے ہاتھ میں عوام کی بھلائی ہو اُسے کامیابی عطا کر اور ہمارے صوبے کو امن و ترقی اور یکجہتی کی راہوں پر گامزن فرما

آمین یارب العالمین۔