*ايك مطلقه كى صدا میرا مہر لے لو، میرا شباب لوٹا دو*
وہ جب آئی تھی، تو اس کے آنچل میں ہزاروں خواب تھے، آنکھوں میں ستارے تھے اور چہرے پر وہ شوخی تھی جو صرف بے فکر بیٹیوں کے حصے میں آتی ہے، اس نے اپنا گھر چھوڑا، اپنی پہچان چھوڑی، اور ایک ایسے شخص کے سپرد ہو گئی جس نے اسے *امانت* سمجھنے کے بجائے *کھیل* سمجھ لیا, برسوں اس کی خدمت میں گزار دیے، اپنی خوشیاں اس کی تھکن پر قربان کیں، اس کے گھر کو گھر بنانے میں اپنی ہڈیاں پگھلا دیں، اور جب وقت نے اس کے چہرے پر تھکن کی لکیریں کھینچیں اور بال چاندی کیے، تو اس مرد نے بڑی بے نیازی سے کہہ دیا جاؤ، میں نے تمہیں آزاد کیا۔
وہ عورت جو اب آئینے میں خود کو پہچاننے سے قاصر ہے، وہ جس نے اپنی جوانی اس شخص کی دہلیز پر خیرات کر دی، آج ایک ایسا سوال پوچھ رہی ہے جس کا جواب کائنات کے کسی قانون کے پاس نہیں *تمہارے دیے ہوئے مہر کے چند سکے تو میرے ہاتھ میں ہیں، لیکن وہ جوانی کہاں ہے جو تمہارے بچوں کو پالنے میں گزر گئی؟ وہ مسکراہٹ کہاں ہے جو تمہاری تلخیوں کی نذر ہو گئی؟ اگر تم حساب برابر کرنا چاہتے ہو، تو مہر کے ساتھ میرا وہ شباب بھی لوٹا دو جو اب کبھی واپس نہیں آئے گا،اسلام نے عورت کو قواریر (نازک آبگینہ) کہا تھا، جسے سنبھال کر رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب ایک مرد اپنی طاقت کے زعم میں آکر، شرعی حدود کو پامال کرتے ہوئے، کسی معصوم کا دل توڑتا ہے اور اسے بے سہارا چھوڑتا ہے، تو عرشِ الٰہی لرز اٹھتا ہے*
*مظلوم کی آہ اور اللہ کا انصاف*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا، (بخاری)جب ایک طلاق یافتہ عورت رات کی تنہائی میں اپنے ضائع شدہ برسوں کا حساب اللہ کے سامنے رکھتی ہے، تو اس ظالم مرد کی پکڑ شروع ہو جاتی ہے، دنیا میں شاید وہ دوسری شادی کر لے، شاید وہ خوش نظر آئے، لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ عورتوں کو بھلے طریقے سے رکھو یا احسان کے ساتھ رخصت کرو، جو مرد شرعی حدود توڑ کر، اپنی انا کی خاطر یا کسی معمولی بات پر زندگی بھر کا ساتھ جھٹکے سے ختم کر دیتے ہیں، وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے غادر (دھوکے باز) بن کر کھڑے ہوں گے، تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص کسی کی بیٹی یا بہن کا گھر اجاڑتا ہے، اس کے اپنے گھر کا سکون چھین لیا جاتا ہے، اس کا انجام تنہائی، ذلت اور ایسی بے برکتی ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سکون کو ترستا ہے۔
طلاق صرف ایک نکاح کا ٹوٹنا نہیں ہے، یہ ایک انسان کے مان کا ٹوٹنا ہے، مہر تو محض ایک رقم ہے، لیکن اس عورت کا وہ وقت، وہ احساسات اور وہ جوانی جو اس نے ایک ظالم کے نام کی، اس کا بدلہ صرف اللہ ہی دے سکتا ہے, وہ شخص کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا جس نے کسی کے آنسوؤں پر اپنی خوشی کی بنیاد رکھی ہو۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*