- ہر چھوٹی شی ایک روز بڑھتی ہے، اور اپنا اصل رنگ دکھاتی ہے۔
بارش پہلے بوندوں کی شکل میں برستی ہے، پھر موسلا دھار ہوتی ہے۔
شیر کی ذہانت اور شجاعت اسکی صغر سنی میں مضمر ہوتی ہے۔
ایک ایک لکڑیاں اکٹھا کرکے گٹھر بنتا ہے۔
لہٰذا جسے ہم سمجھتے ہیں چھوٹا ہے ، اسکا انجام بڑا اثر رکھتا ہے۔
آج ہمارا حال یہ ہو چکا ہے ، کہ گناہوں کی قباحت ہماری نگاہوں میں باقی نہیں رہی۔خصوصا صغیرہ گناہ کو ہم نے گناہ کی فہرست سے ہی نکال دیا ہے۔
لیکِن ایک بات سمجھ لو !!! قرآن و حدیث نے ہمیں یہ تو بتا دیا کہ فلاں گناہ کبیرہ ، فلاں گناہ صغیرہ ، لیکن اسکے اثرات اور نتائج کا علم اللہ نے ہمیں نہیں دیا ہے۔ لہذا ہو سکتا ہے کہ ، کسی چھوٹے گناہ کا انجام اتنا وحشت ناک ہو جتنا کبیرہ کا نہیں ہوتا۔
مثال: بعض مرتبہ لکڑیوں کا گٹھر جلا دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔اور ماچس کی ایک لکڑی جلا دینے سے پوری بستی اثرانداز ہو جاتی ہے ، جل جاتی ہے۔ یہی حال ہے ہمارے گناہوں کا۔
:امام باقؒر اپنے بیٹے کو نصیحت فرماتے ہیں
،يَا بُنَيَّ !! اِنَّ اللّٰهَ خَبَأَ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ فِيْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ
⚫ خَبَأَ رِضَاهٗ فَیْ طَاعَتِهٖ، فَلَاتَحْقِرَنَّ مِنَ الطَّاعَةِ شَيْئًا فَلَعَلَّ فِيْهٖ رِضَاهٗ
⚫ وَ خَبَأَ سَخَطَه فِي مَعْصِيَتِهٖ فَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْصِيَةِ شَيْئًا فَلَعَلَّ فِيْه سَخَطَهٗ
⚫ وَ خَبَأَ أَوْلِيَاءَهٗ فِيْ خَلْقِهٖ فَلَا تَحْقِرَنَّ أَحَدًا فَلَعَلَّهٗ ذٰلِكَ الْوَلِيُّ ۔
چنانچہ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دینا بڑی حماقت ہے، اسی طرح کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر ، کر لینا بڑی بیوقوفی ہے۔
تو سمجھتا ہے جو ذرہ یہ وہ ذرہ نہیں
تو سمجھتا ہے جو قطرہ یہ وہ قطرہ نہیں
یہ وہ ذرہ ہے جو طوفان بھی لا سکتا ہے
💞یہ وہ قطرہ ہے جو دریا بھی بہا سکتا ہے
اَلْأَعْظَمِيَّةُ: ✍🏻
وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَان