مولانا ابو الکلام آزاد یوم پیدائش 11 نومبر
✍🏻 محمد پالن پوری
تاریخ کے افق پر جب غلامی کے سیاہ بادلوں کے نیچے انسانیت کی سانسیں گھٹنے لگتی ہیں تو بعض روحیں پیدا ہوتی ہیں جو صدیوں کے جمود کو توڑنے کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد انہی انقلابی روحوں میں سے ایک تھے جن کے قلم کی نوک سے امتِ مسلمہ کے دلوں میں حریت کا چراغ جل اٹھا۔ وہ عالم بھی تھے اور دردمند بھی، خطیب بھی اور مفسر بھی، سیاست دان بھی اور مصلح بھی لیکن ان سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسی فکر تھے جو دلوں کو بیدار کرتی ہے، قوموں کو راستہ دکھاتی ہے اور غلام ذہنوں کو آزادی کے معانی سمجھاتی ہے۔ ان کی زندگی مکہ کے ایک علمی گھرانے سے شروع ہوئی اور دہلی کی خاک میں ابدی نیند سو گئی مگر ان کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی ترجمان القرآن آج بھی اہلِ دانش کو قرآن کے زندہ پیغام سے روشناس کراتی ہے، ان کی تحریریں آج بھی بتاتی ہیں کہ اسلام کوئی ماضی کا قصہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کا ضمیر ہے۔۔۔۔۔۔
مولانا آزاد نے جب اپنی جوانی کے دنوں میں غلام ہندوستان کی زمین پر آنکھ کھولی تو ان کے سامنے دو طرح کی تاریکیاں تھیں ایک وہ سیاسی تاریکی جو انگریز سامراج نے مسلط کی تھی اور دوسری وہ فکری تاریکی جو خود مسلمانوں کے اندر پیدا ہو چکی تھی۔ انہوں نے دونوں سے جنگ لڑی۔ ایک ہاتھ میں علم اٹھایا اور دوسرے میں قرآن، ایک زبان سے سیاست کو للکارا اور دوسری سے قوم کے دلوں میں ایمان کی حرارت بھری۔ ان کی تقریروں میں لفظ تلوار بنتا تھا اور ان کا سکوت تسبیحِ فکر۔ وہ آزادی کے ایسے ترجمان تھے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتوں میں بھی قوم کے لیے روشنی کا سبق لکھا۔ آزاد ان کا نام نہیں تھا بلکہ ان کی تقدیر تھی، ان کا پیغام تھا، ان کی پوری ذات اس لفظ کی تفسیر تھی۔ جن دنوں سیاست کے ایوانوں میں مصلحتوں کی ریاکاری اور مفاد کی مکاری عام تھی مولانا آزاد وہاں سچائی کے چراغ جلانے والے آخری مجاہد بنے۔ انہوں نے قوم کو بتایا کہ آزادی صرف زمین کا نہیں فکر کا، ایمان کا، شعور کا نام ہے۔ ان کی تعلیمِ جدید کے لیے کوششیں دراصل ایک ایسی علمی بیداری کا آغاز تھیں جس نے پورے ہندوستان میں علمی اداروں اور فکری تحریکوں کو ایک نیا شعور بخشا۔ وزیرِ تعلیم کی کرسی ان کے لیے اقتدار کا نہیں امانت کا منصب تھی۔ جس پر بیٹھ کر انہوں نے علم کو عبادت اور تعلیم کو قوم کی روح قرار دیا۔ ان کے نزدیک کتاب کردار کا آئنہ تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر قوم کا نصاب بگڑ جائے تو اس کا مستقبل بھی مسخ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم کو آزادی کی بقا سے جوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جب ہم علمی زوال، فکری انتشار اور تہذیبی بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں تو مولانا آزاد کی صدائیں پھر سے گونجتی محسوس ہوتی ہیں۔۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قومیں اپنی زبان، اپنے علم، اپنے ایمان اور اپنے شعور سے بنتی ہیں، اور جب یہ چار ستون کمزور ہو جائیں تو آزادی محض ایک رسم رہ جاتی ہے۔۔۔۔
اگر قومِ مسلم نے اپنے اندر پھر سے حریتِ فکر اور علم کی سچائی پیدا کر لی تو سمجھو کہ آزاد اب بھی ہمارے درمیان زندہ ہے کتاب کے اوراق میں نہیں بلکہ ان دلوں میں جو اپنے ایمان کے ساتھ جینا جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔