دعا انسانی ضرورت ہے عبادت کا مغز ہے دعا کے ذریعے سے مصائب ٹلتے ہیں بلائیں دور ہوتی ہیں رنج وغم کافور ہوتے ہیں مال ودولت سے مالا مال ہوتا ہے لیکن شرط ہے کہ دعا دعا ہونا چاہیے دل کی گہرائیوں ۔قلبی جذبات واحساسات کے ساتھ ہونا چاہیے تبھی دعا کا اثر بارآور ہوگا
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
حیات الحیوان2/148میں لکھا ہے کہ منطق الطیر نامی کتاب میں ایک حکایت مرقوم ہے کہ ایک شخص بغداد سے کہیں دوسرے علاقے میں جارہا تھا اسکے پاس چار سودرہم تھے اسکے علاوہ کچھ نہیں تھا پس اس نے راستہ میں زریاب کے بچے فروخت ہوتے دیکھے (زریاب ایک پرندہ ہے جو چڑیا سے کچھ بڑا ہوتا ہے) اس نے چار سودرہم میں بچے خرید لیے اور اسے گھر لے آیا جب صبح دکان کھولی اور بچوں کو بیچنے کے لئے پنجرے میں لٹکا دیا اچانک سخت سرد ہوا چلنے لگی جس کی وجہ سارے بچے مر گیے ایک بچہ رہ گیا اس آدمی کو فقر وفاقہ کا یقین ہوگیا _وہ رات بھر گڑگڑاکر دعا مانگتا رہا اور کہتارہا ۔۔یا غیاث المستغیثین اغثنی ۔۔۔جب صبح سردی ختم ہوئی تو زندہ بچہ پھڑ پھڑانے لگا چناں چہ جب وہ چیختا تو اسکی زبان سے ۔۔۔یاغیاث المستغیثین اغثنی ۔۔کے الفاظ صاف سنائی دیتے تھے جس کیوجہ سے لوگ اسکے پاس جمع ہوگیے اور اسکی آواز سننے لگے پس وہاں سے امیر المومنین کی ایک باندی کا گزر ہوا تو اس نے یہ بچہ ایک ہزار درہم کے عوض خرید لیا اور فقر وفاقہ ختم ہوگیا ۔۔۔۔
علامہ دمیری فرماتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کے سامنے سچے دل سے دعا مانگنے کا کتنا فائدہ ہوا کہ اللہ نے تھوڑی دیر میں نقصان کے بدلے کتنا زیادہ نفع عطا فرمایا ۔۔جو شخص دل کے خلوص ۔اوردل لگی کے ساتھ دعامانگے گا تو اسے کامیابی ضرور عطا فرمائے گا ۔۔۔
اللہ دینے کے لیے تیار ہیں مگر انسان مانگنا ہی نہیں چاہتا ہے
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلاویں کسے راہ رو منزل ہی نہیں