یہ اسرائیل پہ پہلی تگڑی ضرب نہیں ہے
........ اسرائیل کو......میدان جنگ میں اگر صحیح معنوں میں کسی نے... ضرب لگائی ہے کہ جس نے اس کے وجود پہ سوالیہ نشان ثبت کیا ہو تو وہ مصر ہے.
اسرائیل کی ہمیشہ سے یہ جنگی حکمت عملی رہی ہے کہ وہ اپنے حریف پہ اچانک مگر نہایت کاری وار کر کے اسے ابتدا ہی میں ڈھیر کر دیتا ہے. حالیہ جنگ میں بھی اس نے یہی حربہ آزمایا. سن سڑسٹھ کی جنگ میں بھی اسی تیکنیک کو بروئے کار لاکر اس نے پہلے ہی ہلے میں مصر اور شام کی فضائیہ کو تہس نہس کرکے عربوں کی کمر توڑ دی تھی. نتیجتاً گولان کی پہاڑیاں ، سرزمینِ غزہ ، مغربی کنارہ اور مشرقی بیت المقدس پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آن گرے تھے.
اسرائیل کے خلاف بھی دو بار یہ حکمت عملی اختیار کی گئی اور دونوں بار اسے نقصان اٹھانا پڑا. حماس نے سات اکتوبر کو اچانک اس پہ حملہ کردیا تھا، جس نے اول اول اس کے حواس گم کر دیے تھے، مگر درست معنوں میں نہایت کامیابی کے ساتھ یہ داؤ مصری صدر انور سادات نے آزمایا تھا .
ستر کی دہائی شروع ہوئی تو اسرائیل اس زعم کے زیرِ اثر مطمئن تھا کہ عرب ابھی تک سڑسٹھ کی شکست کے زخم چاٹ رہے ہیں. مصر اور شام تب تک حملہ نہیں کریں گے ،جب تک کہ وہ اسرائیل کی برابری کرتی فضائیہ تشکیل نہیں دے لیتے، مگر یہ اس کی خام خیالی تھی. یہ تصور بنیادی طور پر اسرائیلی قوم کے ہیرو موشے دایان کا دیا ہوا تھا ،جو چھ اکتوبر 1973 کو اس وقت سراسر غلط ثابت ہوا، جب مصری افواج نے اچانک نہرِ سوئز کے مشرقی ساحل پہ موجود اسرائیلی افواج پہ حملہ کردیا. حملے میں 240 طیارے ، 2000 ٹینک ، ایک ہزار توپیں اور 2000 میزائل لانچر اور اینٹی ٹینک گاڑیاں شامل تھیں.
مصر نے جنگ کے ابتدائی لمحات میں ہی اسرائیلی ایئرپورٹس اور طیاروں کو تباہ کرکے حریف کو مفلوج کر دیا تھا. مصری افواج دشمن کو نہ صرف نہرِ سوئز کے مشرقی ساحل سے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب رہیں، بلکہ اسے جزیرہ نما سینا سے بھی بےدخل کردیا. اس جنگ میں اسرائیل کے 2656 فوجی ہلاک ، 15000 زخمی اور ایک ہزار قیدی بنائے گئے تھے. جبکہ 122 جہاز اور 440 ٹینک تباہ کیے گئے تھے. نتائج کے اعتبار سے یہ مصر کی بہت بڑی فتح تھی، جس نے عربوں کو سن سڑسٹھ میں پہنچنے والے غم کا بڑی حد تک مداوا کر دیا تھا.
پاکستان نے مصر اور شام کی مدد کے لیے اپنے سولہ پائلٹس بھیجے تھے ،مگر ان کے پہنچنے سے پہلے ہی مصر اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی ہوچکی تھی. البتہ اس دوران شام لڑائی جاری رکھے ہوئے تھا، اس لئے آٹھ پائلٹس نے شام کی جانب سے جنگ میں حصہ لیا اور اسرائیل کے چند طیارے بھی مار گرائے تھے. 
اس جنگ میں اسرائیل پہ اس قدر دباؤ تھا کہ عین جنگ کے دوران وزیر دفاع موشے دایان نے استعفیٰ دے دیا تھا ( اگرچہ وہ مسترد ہوا تھا ). اسی دوران معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم کو مصر کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا، جسے رد کر دیا گیا .
مصر کی جارحانہ حکمت عملی نے اسرائیلی حکام کو اس درجہ حواس باختہ کر دیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا تھا کہ نہایت حوصلہ شکن حالات کی وجہ سے انہوں نے دورانِ جنگ خودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا.
اس جنگ نے اسرائیل کی بنیادیں ہلا ڈالی تھیں. اگر امریکا مداخلت نہ کرتا تو عین ممکن تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے سینے سے اسرائیل نامی کانٹا ہمیشہ کے لئے نکل جاتا.
تازہ صورت حال پہ خوش ضرور ہوں اور دل کھول کر ایران کی تحسین کیجئے (؟) مگر تحسین کے شور میں تاریخ کو فراموش نہ کیجئے . ایسا نہیں کہ عربوں نے فلسطین کے لیے کچھ نہیں کیا. چار نہایت خونریز جنگیں لڑی ہیں. اسرائیل کے آس پڑوس کے جتنے بھی مقبوضہ علاقے ہیں، یہ انہی کوششوں کا خراج ہے. نیرنگیء زمانہ دیکھیے کہ جب عرب سن اڑتالیس سے سن تہتر تک اسرائیل سے برسرِ پیکار تھے، تب ایران اسرائیل کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتا تھا
....................... 
منقول