اللہ تعالیٰ نے فرمایا...!! 
کُلُّ نَفسٍ ذائقۃ الموت ثُمَّ اِلَینَا تُرجَعُون (سورہ العنکبوت)
یعنیٰ ہر جاندار کو ایک نہ ایک روز موت کا ذائقہ چکھنا ہے پھر تم سبکو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے (اور دنیا میں کئے ہوئے اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے) 
میرے عزیزوں! کبھی تم نے تنہائی میں بیٹھ کر اس بات کا تصور کیا ہے وہ دوست و احباب جو  پچھلے دنوں پچھلے ماہ و سال تمہارے ساتھ رہتے تھے جن سے تمہاری رونقیں قائم ہوتی تھیں آج وہ سب کہاں گئے ؟؟جسطرح آج تم اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو کل وہ بھی اسی طرح اس دنیا میں مشغول رہتے تھے جسطرح صبح و شام یہی فکر رہتی ہے کہ*مل جائے پیسہ..... خواہ ہو کیسا*
اسی طرح سے ان مرنے والوں کا حال تھا 
نتیجہ یہ کہ اپنی انمول زندگی (جو کہ سرمایہ آخرت) دنیا کے جال اور عیش وعشرت میں پھنس کر اسکے سمیٹنے اور جمع کرنے کے پیچھے لگا دی ۔
یہاں تک کہ اس حالت میں موت نے انہیں آ دبوچا اور سارے ارمان خاک میں مل گئے 


*جیتے جی بہت یار تھے فاطم اپنے*
*پہلی منزل سے ہی ہر ایک جدا یار ہوا*