🖋️بنت ابوالخیر اعظمیؔ

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی فضل و کرم فرماتا ہے، گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور نیکیوں کے بدلے بے شمار اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔ اس بابرکت مہینے کا ہر لمحہ قیمتی اور ہر ساعت قابلِ قدر ہے، مگر اس کے آخری دس دن اور راتیں خاص طور پر عظمت و فضیلت کی حامل ہیں۔ یہی وہ مبارک ایام ہیں جن میں بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کا سنہری موقع پاتا ہے اور اپنی زندگی کے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔

رمضان کے آخری عشرے کو دراصل عبادت، دعا اور توبہ کا پیغام کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ ایام ہیں جن میں مومن کا دل دنیاوی مشاغل سے ہٹ کر مکمل طور پر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ ان دنوں میں انسان کو یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ رمضان کی گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں اور شاید آئندہ سال یہ مبارک مہینہ نصیب ہو یا نہ ہو۔ یہی احساس اسے عبادت میں زیادہ محنت اور اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف مائل کرتا ہے۔

آخری عشرہ ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے ہمیشہ توبہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ انسان خطاؤں اور لغزشوں کا پیکر ہے، اس کی زندگی میں بے شمار کوتاہیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں، مگر اللہ کی رحمت اس کی خطاؤں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جب بندہ اخلاصِ دل کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک کر توبہ کرتا ہے، اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرتا ہے اور آئندہ کے لیے اصلاح کا عزم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف معاف فرماتا ہے بلکہ اس کے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کرنے کی بشارت بھی دیتا ہے۔

رمضان کے آخری عشرے کی سب سے بڑی خصوصیت لیلۃ القدر ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ یہ وہ عظیم رات ہے جس میں کی گئی عبادت اور دعا کا اجر بے حد و حساب ہوتا ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ اس عشرے میں عبادت میں غیر معمولی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ راتوں کو جاگتے، اپنے اہلِ خانہ کو بھی بیدار کرتے اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا اور مناجات میں مشغول رہتے۔ یہ طرزِ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آخری عشرے کو غفلت میں گزارنا دراصل ایک عظیم نعمت سے محرومی کے مترادف ہے۔

یہ عشرہ ہمیں عبادت کی طرف خصوصی توجہ دینے کی دعوت دیتا ہے۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نوافل کے ذریعے بندہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ جب دل اللہ کے ذکر سے معمور ہو جاتا ہے تو اس میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کی پریشانیاں اور مشکلات اس کے لیے ہلکی محسوس ہونے لگتی ہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب ہر حال میں اس کے ساتھ ہے۔

اسی طرح دعا اس عشرے کا ایک اہم پہلو ہے۔ دعا دراصل بندے اور رب کے درمیان ایک روحانی رابطہ ہے۔ جب انسان عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے مانگتا ہے تو وہ اپنی بے بسی اور محتاجی کا اعتراف کرتا ہے۔ آخری عشرے کی راتیں اس اعتبار سے نہایت قیمتی ہیں کہ ان میں مانگی گئی دعائیں قبولیت کے قریب ہوتی ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جب بندہ اپنے گناہوں کی معافی، اپنی زندگی کی اصلاح، اپنے اہلِ خانہ کی بھلائی اور پوری امتِ مسلمہ کی فلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے۔

آخری عشرہ ہمیں خود احتسابی کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ انسان اپنی زندگی کا جائزہ لے، اپنے اعمال کو پرکھے اور دیکھے کہ اس نے اپنے رب کے ساتھ تعلق کو کتنا مضبوط بنایا ہے۔ اگر اس کی زندگی میں غفلت اور کوتاہی رہی ہے تو یہی وہ لمحہ ہے جب وہ سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ کے لیے نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کرنے کا عزم کرے۔

اس عشرے کی ایک اہم سنت اعتکاف بھی ہے، جو دراصل دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر مکمل طور پر اللہ کی عبادت میں مشغول ہونے کا نام ہے۔ اعتکاف انسان کے دل کو پاکیزگی اور روحانیت عطا کرتا ہے اور اسے اپنے رب کے قریب لے جاتا ہے۔ یہ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے حصول میں ہے۔

 رمضان کا آخری عشرہ دراصل ایک عظیم روحانی پیغام ہے۔ یہ ہمیں عبادت کی لذت، دعا کی تاثیر اور توبہ کی عظمت سے روشناس کراتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی اللہ کی رضا اور اس کی قربت میں ہے۔ اگر کوئی شخص اس عشرے کی قدر کر لے، اپنے دل کو اخلاص اور تقویٰ سے بھر لے اور اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر لے تو یقیناً وہ کامیاب اور سرخرو ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے آخری عشرے کی حقیقی قدر کرنے، عبادت میں اخلاص پیدا کرنے اور اپنی زندگی کو توبہ و اصلاح کے ذریعے سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲