جہالت کا اندھیرا کیسے دور ہو؟


✍🏻ازقلم محمد عادل ارریاوی

-------------------------------------------------


محترم قارئین جہالت کا اندھیرا انسان اور معاشرے دونوں کے لیے زوال اور پسماندگی کا سبب بنتا ہے اس اندھیرے کو دور کرنے کا واحد ذریعہ علم کی روشنی ہے جب افراد تعلیم حاصل کرتے ہیں اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرتے ہیں اور صحیح و غلط میں تمیز سیکھتے ہیں تو معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے علم نہ صرف ذہن کو منور کرتا ہے بلکہ کردار کو بھی سنوارتا ہے اور انسان کو انسانیت کی اصل پہچان عطا کرتا ہے لہٰذا جہالت کے اندھیرے کو مٹانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تعلیم کو عام کریں اور علم کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھیں

جہالت کسی بھی قوم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے یہ ایک ایسا اندھیرا ہے جو نہ صرف فرد کی سوچ کو محدود کر دیتا ہے بلکہ معاشرے کی ترقی کی رفتار کو بھی سست کر دیتا ہے آج جب دنیا چوتھی صنعتی انقلاب کی دہلیز پر کھڑی ہے مصنوعی ذہانت سائنسی ایجادات ٹیکنالوجی اور جدید تعلیم کے میدان میں نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے ابھی تک جہالت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے

اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تعلیم آج بھی ہر شہری تک نہیں پہنچ سکی سرکاری اسکولوں میں سہولتوں کی کمی دیہاتی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا فقدان اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے والدین کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم سے زیادہ روزگار کو ترجیح دیں اس کے نتیجے میں معاشرتی رویوں میں شدت پسندی عدم برداشت اور غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے جہالت نے سچ اور جھوٹ کی پہچان مٹا دی ہے اور قوم فکری انتشار کا شکار ہو چکی ہے

جہالت انسان کو اندھی تقلید کا عادی بناتی ہے وہ سوچنے سوال کرنے اور سچ جاننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ایک جاہل معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ترقی کے دروازے ہمیشہ علم و شعور کے ذریعے ہی کھلتے ہیں یہی جہالت ہے جس نے ہمیں سائنسی تعلیمی اور اخلاقی میدان میں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

جہالت کا اندھیرا تبھی ختم ہو سکتا ہے جب ہم اجتماعی طور پر علم کو اپنی پہچان بنائیں یہ صرف حکومت یا تعلیمی اداروں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں علم کی شمع جلائے یاد رکھیے جہالت ایک زنجیر ہے اور تعلیم وہ روشنی ہے جو ان زنجیروں کو توڑ کر قوموں کو آزاد کرتی ہے۔

اللہ ربّ العزت ہم سب کو جہالت سے محفوظ رکھے اور دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین