رمضان کا آخری عشرہ آتے ہی ایک عجیب منظر شروع ہو جاتا ہے۔
مسجدیں کچھ خالی… اور بازار کچھ زیادہ ہی بھرے ہوئے!
حالانکہ یہی وہ دن ہیں جن میں لیلۃ القدر جیسی عظیم رات چھپی ہے، مگر ہم میں سے کئی لوگ اس وقت کو کپڑوں، جوتوں اور سیل کی لسٹوں میں گزار دیتے ہیں۔
ذرا دل سے سوچیں کیا واقعی اس وقت شاپنگ زیادہ ضروری ہے؟

عید کی تیاری بری بات نہیں ہے، لیکن مسئلہ تب ہوتا ہے جب:

 بازار کی لائٹس مسجد کی روشنی سے زیادہ اچھی لگنے لگیں

شاپنگ لسٹ دعاؤں کی لسٹ سے لمبی ہو جائے*

اور تھکن کی وجہ سے تراویح یا عبادت چھوٹنے لگے
تھوڑا سا توازن بنا لیں:
دن میں اگر ضرورت ہو تو مختصر شاپنگ کر لیں

رات کو عبادت، دعا اور قرآن کے لیے رکھیں

ہم لوگ عید کے کپڑوں کے لیے تو کئی دکانیں دیکھ لیتے ہیں…
کاش جنت کے لباس کے لیے بھی چند سجدے زیادہ کر لیں۔

اللہ ہمیں آخری عشرے کی قدر کرنے کی توفیق دے اور ہماری عبادت قبول فرمائے۔ آمین