رمضان کا قیمتی لمحہ عید کی نذر کیوں ؟
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ذات باری تعالیٰ کی فضل سے رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں ہم پہ سایہ فگن ہیں ،اس کا ہر لمحہ امت مسلمہ کےلیے سراہا سعادت نصیبہ وری ہے، یہ تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کا ذریعہ ہے،تلاوت قرآن ، ذکر و اذکار ،سنن و نوافل کا اہتمام ،آہ وزاری ،شب بیداری ،خدا سے نیاز مندی وخوشامدی کی گھڑیاں ہے،گناہ گار آنکھوں کو بھگانے کا وقت ہے،قلب ودماغ کو رب کے حضور متوجہ کرنے کا موقع ہے،زندگی کے سیاہ نقطے کو مٹانے کا وقت ہے،اللہ تعالیٰ سے لینے اور مانگنے کا وقت ہے، خیر وعافیت کے سوال کا وقت ہے ،پر زہے نصیب کہ جوں جوں رمضان اپنے ساعتوں کے ساتھ تیزی سے محو سفر ہے ، الوداعی نغمے ہمیں سناتے ہیں ،اتنے ہی ہم سست پڑجاتے ہیں ،ہم حساسیت کھودیتے ہیں ،اس کی قیمتی ساعتوں کو ضائع کرنے لگتے ہیں ،ہماری عبادتوں میں وہ روح، جوش و ولولہ باقی نہیں رہتا جو شروع رمضان میں تھا ، تراویح میں قرآن مکمل ہونے کے بعد سے ہی ہم مسجد کو بھول جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم نے اپنی مغفرت کرالی اب مزید کسی عبادت کی ضرورت نہیں -
ایک کہاوت ہے کہ" رمضان ایک ماہ کا مہمان ہے " یہ کہاوت جس نے بھی کہی ہو وہ نادان ہے ،کیونکہ ہم اگر دیکھیں تو رمضان مہمان نہیں ہے وہ تو ہرسال اپنے وقت پر آتا ہے اور آتا رہے گا،مہمان تو ہم ہیں جس کی زندگی کی سانس کب ؟اور کہاں رک جاۓ؟کچھ پتا نہیں، دوبارہ رمضان تک پہونچنا نصیب ہو کہ نہیں،ہم زندہ رہیں گے تو بھی رمضان آۓ گا اور مرگیے تو بھی رمضان آۓگا-
جب ہم رمضان کو مہمان سمجھیں گے تو یہ ہم پر بوجھ محسوس ہوگا جو محسوس کررہے ہیں اور اگر ہم خود کو مہمان سمجھیں گے اور یہ سوچیں کہ ہوسکتاہے یہ ہمارے لیے آخری رمضان ہوتو پھر رمضان کی قدر کریں گے ،اس کی برکتوں سے لطف اندوز ہونے کےلیے خود ہمہ تن متوجہ رکھیں گے-
آپ سوچیں !
اگر ہم نے رمضان سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا اور اس میں اپنے رب کو راضی کرکے اپنی مغفرت نہ کروائی اور یہ رمضان ہمارے لیے زندگی کا آخری رمضان ہوا تو بتائیے ہم سے زیادہ بدقسمت کون ہو گا کہ جس کو اس کے رب نے خود کو بدلنے اور سنورنے اور سدھرنے کا موقع دیا لیکن وہ غیرضروری مصروفیات میں لگ کر اس کے لمحات کو یوں ضائع کردیا جیسے کہ وہ اس کےلیے کوئی وہ چیز تھی ہی نہیں -
اس میں کوئی شک نہیں عید اللہ ربّ العزت کی جانب سے ملنے والا ایک خاص تحفہ اور انعام ہے،اس دن ہم عمدہ لباس اور عمدہ خورد و نوش کا انتظام کریں،تاکہ یہ محسوس ہو کہ ہاں آج ہم اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارا میزبان ہے،اس دن میں عام دنوں کے مقابلے میں آدمی نمایاں نظر آۓ ،عمدہ پوشاک ہو ، عمدہ عطر ،عمدہ وضع قطع، عمدہ غذائیں ہوں، یہ سب شریعت میں مطلوب ہے-
مگر؛ کچھ سالوں سے اس میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی اور اہتمام دیکھنے کو ملتا ہے ،ایسا لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے رمضان کو اسی کام کےلیےہمیں دیا تھا کہ ہم پہننے اوڑھنےاور کھانے پینے میں خود کو لگادیں اور مقصد کو پس پشت ڈال دیں ،ہم نے رمضان کو رسم بنادیاہے اورعید کو ایک عیش ومستی کا دن بنادیا -
کیا عجیب تماشہ ہے لوگوں کا کہ عید کی تیاریاں پندرہ رمضان سے شروع کر دیتے ہیں ،بازاروں کا چکر ،راستے میں گاڑیوں ہجوم ، دکان میں خریداروں کی قطاریں ، شور و ہنگامہ ،سب وشتم ،روزہ کا اثر سب کے پیشانی پہ نظر آتاہے ،جو سب سے بری جگہ ہے وہ ہمارے لیے اچھی جگہ بن گئی ہے اور سب اچھی جگہ ہے ہم اس سے دور ہیں ،اس سے بڑی محرومی کی اور کیا بات ہوسکتی ہے ،اسی کو ظلم کہتے ہیں، شیئ کو اس کے مقام کے علاوہ میں رکھنا -
ماتم تو تب ہےجب ہماری مائیں ،بہنیں اور گھر کی عورتیں شوقیانہ اس کی زینت بن جاتی ہیں،ہرجگہ عورتوں کی بھیڑ، گلی ،سڑک دکان ،چوک ،چوراہا سب عورتوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے ، کلر چینجگ ڈیزائن چینجنگ کے بہانے بازار کی زینت بن رہی ہے یہ کبھی چیز لینی ہے اور کبھی وہ چیز وغیرہ وغیرہ اسی چکر میں مابقیہ پندرہ رمضان ضائع ہو جاتے ہیں ،ہرجگہ مہنگے جوڑے کے چرچے،، اس کی قیمتوں کے چرچے ہیں ،ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کو کپڑے دکھاتے ہیں اور قیمتیں بتاتے ہیں اور فخر کے ساتھ اس کا تذکرہ کرتے ہیں کہ میں نے اتنے کی خریداری کی اور میں نے یہ لیا وہ لیا وغیرہ وغیرہ
اب بتائیے !
اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان دیا تھا تاکہ ہم اس سے قریب ہوں، تعلق بڑھائیں ،عبادتیں اور ریاضتیں کریں، ہم ہیں کہ ان سے تعلق کمزور کررہے ہیں غیر ضروری کاموں میں لگ کر مقصد اصلی کو فوت کررہے ہیں -
ہوش کے ناخن لیں، دل سمجھائیں کہ کیا میرے لیے رمضان کی عبادت وریاضت اصل ہے یا پھر عید کے جوڑے اور عید کی تیاریاں -
ہم اگر ماضی کا رخ کریں تو معلوم ہوگاکہ آج سے پندرہ بیس سال قبل بھی لوگ عید مناتے تھے ،عمدہ کپڑے پہنتے تھے ،عمدہ کھانے پینے کا انتظام کرتے تھے ،مگر ؛وہ سب اعتدال کے ساتھ ہوتا تھا ،پر آج کل سب ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کےلیے اس کا خوب اہتمام کرتے ہیں اور اگر ہم نے کم قیمت کا جوڑا لیا تو اس میں اپنی ذلت محسوس کرتے ہیں -
کچھ لوگ ایسے بھی جو عید کے جوڑے خریدنے نہ صرف ایک شہر سے دوسرے بلکہ کئی سو کلو میٹر کا سفر بھی کرلیتے ہیں تاکہ اس کا لباس عیدگاہ ، گاؤں اور شہر میں سب مہنگا اور پرکشش معلوم ہو جوکہ ریاکاری ہے-
بعض لوگ رمضان گزرنے کے بعد کئی ہزار کے مقروض ہو جاتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ ہم عید کےلیے نئے جوڑے سب کو دلادیں ،کیا ہوگیا ہے ہمیں ؟اور ہم کہاں جارہے ہیں ؟سادگی کے ساتھ ہم زندگی کیوں نہیں گزارتے ؟ان البذاذۃ من الأیمان یہ ہمارے آقانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سادگی ایمان کا حصہ ہے-
اگر ہم شریعت کا مطالعہ کریں تو کہیں بھی عید کے دن کےلیے نئے کپڑے کا ذکر نہیں ملتا بلکہ عمدہ کپڑے کا ذکر ملتا ہے اور عمدہ کپڑے وہ ہوتے ہیں جو آدمی اپنے پاس موجود کپڑوں میں بہتر سمجھتا ہے -
اگر کسی کو کپڑے کی ضرورت ہو تو وہ رمضان سے پہلے بھی لے سکتا ہے تاکہ آدمی رمضان سے پہلے ہی ان ضروریات سے فارغ ہوجاۓ اور پھر رمضان میں یکسوئی کے ساتھ عبادت میں منہمک ہوجاۓ،اور اگر ضرورت نہ ہو جیساکہ آج کل عام طور ہر آدمی کے پاس پہلے سے ہی عمدہ قسم کےکئی جوڑے موجود ہوتے ہیں تو انہیں بازار اور دکان کی خاک چھاننے کی قطعا ضرورت نہیں ہے -
یہ اسراف و فضول خرچی ہے جس کو قرآن نے بھی منع کیاہے
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو فہم صحیح عطاء فرمائے آمین