استاذ کی بے قدری ایک خطرناک رویہ
✍🏻بقلم محمد عادل ارریاوی
---------------------------------------------------
قارئین کرام! کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے، دانشوروں کا کہنا ہے کہ بچوں کو ستاروں سے بھی آگے کی دنیا دکھانے میں والدین اور اساتذہ کا بڑا رول ہوتا ہے؛اگر یہ کہا جائے کہ والدین سے بڑھ کر طلبہ کو عروج و ارتقا کے راہ پر لاکھڑا کرنے والے اساتذہ ہی ہیں تو بےجا نہ ہوگا،کیوں کہ والدین اپنے بچوں کو زمیں پر رکھ دیتے ہیں اور یہی اساتذہ ان بچوں کوعرش اعظم (کامیابی کی آخری حد) تک لے جانے میں اپنی پوری محنت صرف کردیتے ہیں، اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ اپنے اساتذہ کا احترام واکرام اپنے اوپر لازم کرلیں، کیوں کہ اساتذہ پوری قوم کے محسن ہوتے ہیں، روحانی باپ کی طرح ہوتے ہیں، لہٰذا طالب علم کو چاہيے کہ انہیں اپنے حق میں حقیقی باپ کی طرح تصور کریں۔
علم انسان کو حیوانیت سے نکال کر انسانیت کے بلند ترین مقام تک پہنچاتا ہے، اور استاد وہ عظیم ہستی ہے جو انسان کو اس مقام تک لے جانے کا ذریعہ بنتی ہے، استاد صرف علم دینے والا نہیں بلکہ کردار ساز، رہبر اور قوم کا معمار بھی ہوتے ہیں، لیکن افسوس آج کا معاشرہ اسی استاد کی عظمت کو فراموش کر بیٹھا ہے، استاد کی بے قدری ایک ایسا خطرناک رویہ بن چکی ہے جو نہ صرف ہمارے تعلیمی نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے بلکہ ہماری اخلاقی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ رہا ہے، اسلام نے استاد کو والدین کے برابر درجہ دیا ہے،حضرت علیؓ فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا میں اس کا غلام ہوں یہی ایک جملہ استاذ کی عزت و مقام کو اجاگر کرنے کے لئے کافی ہے لیکن آج کے دور میں اس سوچ کے حاملین ہمیں کم ہی نظر آتے ہیں۔
آج ہم تعلیمی اداروں میں دیکھتے ہیں کہ طلبہ استاذسے تمیز و احترام سے پیش نہیں آتے، بعض والدین جو کبھی اساتذہ کو ہاتھ چوم کر سلام کیا کرتے تھے اب ان کے خلاف شکایات لے کر اداروں میں گھس آتے ہیں سوشل میڈیا پر استاذ کی تضحیک، طلبہ کا نازیبا رویہ اور تعلیمی اداروں کی جانب سے اساتذہ کے حقوق کی پامالی سب اس خطرناک رویے کی نشان دہی کرتے ہیں۔
جب استاذ کی عزت نہ ہو تو تعلیم کا عمل متاثر ہوتا ہے، طلبہ سنجیدگی سے علم حاصل نہیں کرتے نتیجتاً تعلیمی معیار پستی کا شکار ہو جاتا ہے۔
استاذ صرف نصاب نہیں پڑھاتا وہ طلبہ کے کردار کی تعمیر بھی کرتا ہے جب اساتذہ کی بات کا اثر ختم ہو جائے تو نئی نسل کی اخلاقی تربیت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
استاد قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر ہم معمار کو ہی بے وقعت خیال کریں تو یاد رکھیں کہ آپ کی عمارت کبھی بھی مضبوط نہیں بن سکتی۔ والدین اور معاشرے کا تربیتی کردار کمزور پڑ جانا، حل کیا ہے؟
معاشرے کو چاہیے کہ استاد کی عزت کو بحال کرے اور بچوں کو اس کی تربیت دی جائے، تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے حقوق کا تحفظ ہو ان کی عزت تنخواہوں اور فیصلوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے، میڈیا کو چاہیے کہ استاد کو ہیرو کے طور پر پیش کرے نہ کہ طنز و مزاح کا نشانہ بنائے والدین اپنے بچوں کو بچپن سے استاد کے احترام کا درس دیں،استاد کی بےقدری صرف ایک فرد کی توہین نہیں،یہ پوری قوم کے مستقبل پر حملہ ہے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر استاذ نہیں رہے یا وہ دل سے پڑھانا چھوڑ دیں تو علم کا چراغ بجھ جائے گا قومیں علم سے بنتی ہیں اور علم استاد سے، استاذ کی بے قدری بند کریں ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہمیں اچھے استاذ چراغ جلاکر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے اور پھر صرف پچھتاوا باقی رہ جائے گا۔
اپنے مال میں سے کسی چیز سے اُستاذ کے حق میں بخل سے کام نہ لے، یعنی جو کچھ اسے درکار ہو بخوشی حاضر کردے اور ان کے قبول کرلینے میں ان کا احسان اور اپنی سعادت تصور کرے، یاد رکھیں ان کی دعائیں آپ کی زندگی میں انقلاب اور خوشگواریاں پیدا کرسکتی ہیں۔
میں دل کے عمیق گہرائیوں سے دعا گو ہوں کہ اللہ ربّ العزت ہمارے جملہ اساتذہ کو ہمیشہ شادوآباد خوش و خرم رکھے، ان کی محبتیں، شفقتیں اور رحمتیں ہمیشہ قائم ودائم رہے ان کے سایہ کو ہم طالب علموں پر دراز فرمائے،ہمارے وہ اساتذہ جو اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں ان کی مغفرت فرما کر تا ابد ان کا فیض ہم پر جاری فرمائے آمین یارب العالمین