دئیے ہوئے اپنے 
قرض کو واپس نکلوانے کے بے رحم اور عملی طریقے۔
‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌
دیا گیا قرض واپس لینا آج کے دور میں "شیر کے منہ سے نوالہ چھیننے" کے مترادف ہے۔
شریفانہ طریقے سے مانگیں گے تو آپ کو ٹال دیا جائے گا۔
 اگر آپ اپنی رقم واپس چاہتے ہیں تو آپ کو لحاظ، شرم اور مروت کو بھی طلاق دینی ہوگی اور ہر طرح کے تعلقات کو بھی داؤ پر لگانا ہو گا۔

. شرم کا جنازہ نکال دیں 
قرض مانگتے ہوئے شرمائیں مت۔ پیسے آپ کے ہیں، اس کے نہیں۔ اگر آپ شرمائیں گے کہ "اچھا نہیں لگتا"، تو وہ کبھی واپس نہیں کرے گا۔ دن میں تین بار کال کریں، میسج کریں اور تقاضا کریں۔ اتنا تنگ کریں کہ وہ آپ سے جان چھڑانے کے لیے پیسے پھینک کر مارے۔

. مجمعے میں مانگیں ۔
اسے تب ٹارگٹ کریں جب وہ اپنے دوستوں، کولیگز یا سسرال والوں کے ساتھ بیٹھا ہو۔ بھری محفل میں اونچی آواز میں کہیں،"یار وہ میرے پیسے کب واپس کر رہے ہو؟" اس کی جعلی عزت خاک میں مل جائے گی اور وہ اپنی "ناک" بچانے کے لیے فوراً انتظام کرے گا۔

. گھر کے بڑوں کو شامل کریں 
اگر وہ فون نہیں اٹھا رہا، تو سیدھا اس کے گھر جائیں اور اس کے والد یا بڑے بھائی کے سامنے بیٹھ جائیں۔ "انکل، آپ کے بیٹے نے پیسے لیے تھے، اب فون نہیں اٹھا رہا"ابا جی" کا ڈر آج بھی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

. دفتر میں دھرنا۔
اس کے دفتر یا دکان پر جا کر کسٹمرز کے سامنے بیٹھ جائیں۔ وہاں سے ہلیں مت۔ جب وہ کہے "بعد میں آنا"، تو کہیں "میں فارغ ہوں، پیسے لے کر ہی جاؤں گا۔" جب اس کا بزنس یا نوکری خطرے میں پڑے گی، تو وہ ادائیگی کرے گا۔

قسطوں پر راضی ہو جائیں۔
اگر وہ کہے "پوری رقم نہیں ہے"، تو ضد نہ کریں۔ اس کی جیب میں جو ہے (چاہے 500 روپے ہوں) وہ نکلوا لیں۔ اصول یہ ہے: "کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔" جب آپ قسطیں لینا شروع کرتے ہیں، تو نفسیاتی طور پر اس پر قرض کا بوجھ بنا رہتا ہے۔

. "" دوست کا استعمال
اپنے کسی ایسے دوست کو ساتھ لے کر جائیں جو شکل سے بدمعاش لگتا ہو یا جس کا لہجہ سخت ہو۔ آپ خاموش رہیں، دوست کو بات کرنے دیں۔ کبھی کبھی تیسرے بندے کا خوف وہ کام کر جاتا ہے جو آپ کی دوستی نہیں کر سکتی۔

عیاشی پر ٹوکیں 
اگر وہ ہوٹل میں کھانا کھا رہا ہے یا نئے کپڑے پہن رہا ہے، تو فوراً ٹوکیں، “پیزا کھانے کے پیسے ہیں، میرا ادھار واپس کرنے کے نہیں؟" اسے ہر خوشی کے موقع پر یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ کے پیسوں پر عیاشی کر رہا ہے۔ اس کا سکون برباد کر دیں۔

. تنخواہ والے دن چھاپہ
آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس کی تنخواہ یا کمیٹی کس تاریخ کو نکلتی ہے۔ ٹھیک اسی دن صبح سویرے اس کے سر پر پہنچ جائیں۔ اس سے پہلے کہ وہ پیسے خرچ کرے یا کسی اور کو دے، آپ اپنا حصہ وصول کر لیں۔

. مذہبی کارڈ کھیلیں 
اسے بتائیں کہ "حدیث میں ہے کہ مقروض کی نماز جنازہ نہیں ہوتی اور شہید کا بھی قرض معاف نہیں ہے۔ اگر میں مر گیا یا تم مر گئے تو آخرت میں کیا بنے گا؟" ہمارے معاشرے میں لوگ قانون سے نہیں ڈرتے، لیکن قبر کے عذاب سے ڈر جاتے ہیں۔

. سوشل میڈیا کی دھمکی 
اسے واٹس ایپ پر میسج کریں: "اگر کل تک پیسے نہ ملے، تو میں تمہاری تصویر کے ساتھ فیس بک پر پوسٹ لگانے لگا ہوں کہ یہ فراڈیا ہے۔" اکثر صرف یہ دھمکی ہی کافی ہوتی ہے کیونکہ آج کل ڈیجیٹل بدنامی کا ڈر بہت زیادہ ہے۔

نامناسب وقت پر کالز 
اسے رات کے 2 بجے یا صبح 6 بجے کالز کریں۔ جب وہ فیملی کے ساتھ ہو، تب کال کریں۔ اس کی نیند اور سکون حرام کر دیں۔ نفسیاتی دباؤ اتنا بڑھا دیں کہ وہ پیسے دے کر آپ کو بلاک کرنا اپنی کامیابی سمجھے۔

. پولیس/تھانے کا ذکر
چاہے آپ کے پاس کوئی تحریری ثبوت نہ بھی ہو، اعتماد سے کہیں: "میں کل تھانے درخواست دینے جا رہا ہوں پولیس اور کچہری کے نام سے عام آدمی کی ٹانگیں کانپ جاتی ہیں۔ اسے اس خوف میں مبتلا کریں کہ معاملہ ہاتھ سے نکل رہا ہے

لوگوں میں بے غیرتی کی انتہا ہے
ہمارے ہی پیسے ہم ہی فقیر کب دوگے کب دوگے 
 اور وہ تاریخ دیتے رہتے ہیں کہ فلاں تاریخ میں آنا
عائشہ ❤