تبصرہ برکتاب
بنام النبی الخاتم
صفحات :166
قیمت:60
مصنف📖:مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ
مدون ومحشی 📚:مولانا محمد عمرانور رحمۃ اللہ علیہ
سابق شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن
✍🏻تبصرہ نگار :گل رضاراہی ارریاوی
🖊️ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ سراپا وجود مسعود ہے ،دنیا کی تاریخ میں سب سے مبارک دن وہ ہے جس میں آپ کی آمد باسعادت ہوئی، وہ ایسی صبح تھی جس میں بے شمار خوشیاں اور روشنیاں تھی ،جس کی ضو فشانی پورے عالم کو منور کرنے ،ستم زدہ لوگوں کو عدل وانصاف دلانے اور ہر طرح آلائشوں ،پلیدیوں اور گندگیوں سے نکال کر طہارت وپاکیزگی ،عصمت وعفت کے روشن محلات میں داخل کرنے کی بشارت تھی ،یہ تمام بشارتیں رب العالمین نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پاک باز صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کےذریعے مکمل کیا-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہر وباطن کی عفت و پاکدامنی بے مثال تھی ،ان کی خوبیوں کا معترف صرف اہل ایمان ہی نہیں بلکہ دشمن رسول بھی تھے ،باضابطہ دشمن خدا نے اپنی کتابوں میں اس عظیم اور انقلابی شخصیت کا تذکرہ بہت ہی احترام کے ساتھ کیاہے-
تو محبان رسول خدا جس کا دل ہمیشہ آپ کی خاطر دھڑکتا ہے اور آپ کےلیے اپنی جان ومال کو لٹانا باعث سعادت سمجھتا ہے تو بھلا وہ اپنے محبوب کے تذکرہ سے کیسے تغافل برت سکتاہے؟
اسی لیے آپ کے بعد تمام لوگوں نے زبان وقلم کے ذریعے آپ کی سیرت وسوانح اور اسوۂ حسنہ کو بڑے خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیاہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ پربے شمار کتابیں اب تک منظر عام پر آئیں ،آرہی ہے اور قیامت تک آتی رہےگی ،طویل ومختصر اور معتدل کتاب بھی آئیں ،بعضے کتب وہ ہیں جو کئی جلدوں میں ہے -
مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ
"اور اگر یہ کہا جائے تو بالکل مبالغہ نہ ہوگا کہ
آج تک کسی علمی،تاریخی یاادبی موضوع پر اتنی کتابیں تصنیف نہیں کی گئی جتنی کہ "سیرت محمدی "اور اس کے متعلقات پر چھپ چکی ہے اور اب تو یہ کیفیت ہے کہ کوئی مہینہ بلکہ کوئی ہفتہ اور کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں اس مقدس موضوع پر کوئی کتاب ،کوئی رسالہ یا کوئی مقالہ کہیں اشاعت پذیر نہ ہوتاہو"
یہی ورفعنالک ذکر کی وضاحت ومصداق بھی ہے کہ ہر زمانے میں آپ کا ذکر خیر نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ہوگا،آج چہاردانگ عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باتیں، آپ کی تعلیمات پر گھر میں موجود ہیں-حتی کہ غیروں کے گھر میں بھی ،بس نوعیت الگ ہے-
سیرت نبوی پر مشتمل کتب میں ایک مختصر و جامع کتاب "النبی الخاتم" ہےجو اپنے ندرت اسلوباور طرز نگاری کی وجہ سے علماء کی نظر میں بے حد مقبول ہے ،اس کتاب میں مصنف رح نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا (1)مکی زندگی (2)مدنی زندگی ،پھر دونوں زندگی کی بہت خوش اسلوبی کے ساتھ نقشہ کھینچا ہے ،
اس کتاب کے بارے میں علامہ سید سلیمان ندوی ،مولانا ابوالحسن علی ندوی،مولانا منظور نعمانی ،مفتی تقی عثمانی اورڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے بہت عمدہ تبصرہ کیا ہے ، اس کی اورصاحب کتاب کی خصوصیات کا اعتراف کیا-
مولانا مناظر احسن گیلانی بے شمار کتابوں کے مصنف ومحقق ادیب وخطیب ہیں ،ان کی تحقیق علماء دیوبند میں بےحد مقبول ہے ،تاریخ وسیر ،تدوین قرآن وحدیث پر مشتمل کتاب نہایت مقبول ہیں،
ان کی کتاب پر مزید مجھ جیسے ناقص العلم والعقل کا کچھ تبصرہ کرناسورج کو چراغ دکھانے کے مانند ہوگا
تاہم دوران مطالعہ راقم نے جو لطف اور فائدہ محسوس کیا اس کا خلاصہ اور اس کی اہمیت اپنے محدود ومقصور الفاظ میں بیان کردوں تاکہ میرے دامن میں بھی اس کی کچھ موتیاں پیوست ہوجاۓ -
النبی الخاتم ایک ایسی کتاب ہے جو ایک مرتبہ ہاتھ آجاۓ تو مطالعہ مکمل کیے بغیر رہا نہ جاۓ -,یہ کتاب جب استاذ محترم نے مجھ تک ارسال کرائی اور میرے ہاتھ میں اس کا مطالعہ شروع کردیا اور میں نے کسی کتاب کو اتنی دلچسپی سے مطالعہ نہیں جتنی دلچسپی کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ کیا ،درسی مشغولیات اورعلالت کے باوجود الحمدللہ پانچ دن میں اس کا مطالعہ مکمل کرلیا،
صاحب کتاب نے سیرت نبوی کو ایسے اسلوب کے ساتھ بیان کیاہے کہ مکی اور مدنی زندگی کا پورا نقشہ سامنے آجاتاہے-
شروع میں مصنف رحمہ اللہ نےدیگر کی مزاہب کی طرف اشارہ کرکے اس کی بحث کو چھیڑا جوکہ ہم جیسے ناقص شخص کو سمجھ نہ آۓ، بصد شکریہ محشی ومدون مولانا محمد عمر انور صاحب رح کا کہ انہوں نے اپنی تحقیقی حاشیہ لگا کر کتاب کو سہل وآسان اور مزین و آراستہ کردیا ،اس سے کتاب کو سمجھنے میں بہت مدد ملی -
ماحاصل یہ کہ یہ کتاب بہت دلچسپ ہے ،اسلوب نگارش قابل تحسین ولائق داد ہے،اس طرح یہ کتاب مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ تحقیقی کتاب بھی ہے-
کتاب کے بارے میں اکابر علماء کا تبصرہ
علامہ سید سلیمان ندوی فرماتے ہیں:
النبی الخاتم ایک گلدستۂ عقیدت ہے جس کو مولانا مناظر احسن کے عقیدت مند قلم نے سجایا ہے، اس کتاب میں مولانا نے اپنے خاص والہانہ رنگ میں سیرت پاک کے واقعات کو ایک خاص انداز و ترتیب کے ساتھ پیش کرکے نہایت لطیف نتائج پیدا کیے-
مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" مولانا کی تصنیفات میں سب سے پہلے غالبا "النبی الخاتم" پڑھی ،کتاب عجیب البیلے انداز میں لکھی گئی ہے، صحف سماوی کا انداز بیان، خطیبوں کا جوش و برجستگی ،عشاق کی مستگی اور وارفتگی ،عقل وجذب کی لطیف آمیزش ،حسب معمول معمولی اور مشہور واقعات سے لطیف نکتے اور عظیم نتیجے نکالتے چلے جاتے ہیں کہ اور وہ اس سرعت و کثرت کے ساتھ پڑھنے والا مصنف سے شکایت لگتا ہےکہ:
دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار "
ڈاکٹر محمود احمد غازی فرماتے ہیں
"اس موضوع پر سب سے دلچسپ اور البیلی کتاب جو ادبی انداز سیرت کا بہت عمدہ نمونہ ہے وہ بر صغیر کی ایک بزرگ مولانا مناظر حسن کی ایک کتاب ہے ،مولانا نے "النبی الخاتم" کے نام سے ایک چھوٹی کتاب لکھی تھی،اس کتاب میں نہ واقعات میں کوئی ترتیب ہے،نہ بظاہر اس میں کوئی نئی تحقیق ہے ،لیکن پڑھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا لکھنے والا دل کی دنیا میں بیٹھ کر ایک عجیب انداز سے لکھ رہا ہے" -
مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں :
"مولانا مناظراحسن گیلانی لکھی ہوئی انوکی سیرت پڑھے لکھے لوگو میں محتاج تعارف نہیں راقم نے اسے بار بار پڑھا اور ہر بار نیا لطف محسوس کیا ،
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری کتاب ایک ہی نشست اور ایک ہی دھن میں لکھی گئی ہے پھر اس اسلوب بیاں کے ساتھ صرف سیرت ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے بارے میں بھی بڑی علمی بحثیں چھیڑی گئی ہے بلاشبہ یہ کتاب اردو کے علمی و ادبی ذخیرے کی قیمتی متاع ہے" -
مولانا منظور نعمانی صاحب فرماتے ہیں:
" سیرت نبویہ کے باب میں اب تصانیف اور مقالات کی کمی نہیں،
لیکن اس شیوع کے باوجود ایسی کتابیں اس بے پایاں ذخیرے میں گنتی کی چند نکلی ہیں جن میں سیرت نبوی کو ایسی جامعیت اور اکملیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہو جو اس کا طغراۓ امتیاز ہے لیکن الحمدللہ پیش نظر کتاب اس حیثیت سے انہی چند مستثنیات میں سے ہے
وہ اختصار کے باوجود سیرت نبویہ کے تمام قابل غور پہلوؤں پر حاوی ہے "
کتاب ہذا کی ایک جھلک :
صاحب کتاب دربار نبوی کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں
"آدم کے بچے ہر جانب سے چلے آتے ہیں، فوج در فوج چلے آتے ہیں ,
،وفود کا تانتا (مجمع)بندھ جاتا ہے
پھر کیا مدینے میں جو پائے تخت قائم ہوا ،منبر کی جگہ تخت بچھایا گیا ،وہی منبر ،وہی مسجد ہے، وہی جھونپڑے ہیں، وہی چمڑے کا اکہرا گدا ہے، نہ حاجب ہے، نہ دربان ہے امیر بھی آتے ہیں غریب بھی آتے ہیں دونوں کے ساتھ ایک معاملہ ہے عجب دربار ہے
سلاطین کہتے ہیں شاہی دربار تھا ،فوج تھی، علم تھا پولیس تھی، جلاد تھے، محتسب تھے، گورنر تھے، کلیکٹر تھے، منصف تھے ،ضبط تھا قانون تھا-
مولوی کہتے ہیں مدرسہ تھاکہ درس تھا، وعظ تھا، افتاء تھا، قضا تھا، تصنیف تھی، تالیف تھی ،محراب تھی، منبر تھی -
صوفی کہتے ہیں خانقاہ تھی کہ دعا تھی، جھاڑ تھا ،پھونک تھی، ورد تھا ،وظیفہ تھا، ذکر تھا ،شغل تھا ،تحنث (چلہ) تھا، گریہ تھا بکا تھا، وجد تھا حال تھا، کشف تھا ،کرامت تھی ،فقر تھا، زہد تھا ، قناعت تھی ، کنکریاں دی جاتی تھیں کہ کھارے کنوؤں کا پانی میٹھا ہو جاۓ، بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرا جاتا تھا ،جس کو جو کہہ دیا جاتا تھا پورا ہوتا تھا-
مگر سچ تو یہ ہے کہ وہ سب کچھ تھا ،اس لیے کہ وہ سب کے لیے آیا تھا ،آئندہ جس کسی کو چلنا تھا، جہاں کہیں چلنا تھا، جس زمانے میں چلنا تھا ،اسی روشنی میں چلنا تھا -
اس کتاب کے مطالعہ میں ذیل کے طریقے کو ملحوظ رکھیں تو ذہن میں نقش کرنے لیے مفید ثابت ہوگا،
اولا متن اور حاشیہ دونوں ساتھ تھا پڑھا جائے تاکہ تحقیقی مطالعہ ہو،پھرایک مرتبہ بالاستیعاب بغیر حاشیہ کے صرف متن پڑھا جائے تسلسل کے ساتھ اس سے مضامین یکسوئی کے ساتھ نقش ہوتے چلےجائیں ورنہ حاشیہ اور متن دونوں ساتھ پڑھنے سے تسلسل ختم ہوجاتاہے،
اس طرح مطالعہ سےان شاءاللہ خاطر خواہ نفع ہوگا-
اللہ تعالیٰ مصنف اور مدون ومحشی کو جزائے خیر عطا فرمائےاور حسنات کو رفع درجات کاسبب بناۓ
آمین ثم آمین