آپﷺکی ازدواجی زندگی
۔ از قلم محمد امیر الاسلام:
اسلام کی سب سے روشن اور کامل شخصیت حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کی ازدواجی زندگی بھی ایک مکمل اور جامع نمونہ ہے، جو محبت، رحمت، عدل، صبر اور حسنِ سلوک سے بھرپور ہے۔
1. ازدواجی زندگی کی ابتدا؛ نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی کا آغاز حضرت خدیجہؓ کے ساتھ ہوا۔ آپ ﷺ کی عمر اس وقت 25 سال تھی اور حضرت خدیجہؓ کی عمر 40 سال۔ وہ ایک معزز، مالدار اور نیک خاتون تھیں۔ آپ ﷺ نے اُن کے ساتھ نکاح فرمایا اور تقریباً 25 سال تک ایک مثالی ازدواجی زندگی گزاری۔ اس دوران نہ آپ ﷺ نے کوئی اور نکاح فرمایا اور نہ ہی حضرت خدیجہؓ کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کی۔ یہ آپ ﷺ کی محبت اور خلوص کی عظیم مثال ہے۔
2. ازواجِ مطہراتؓ کی تعداد اور حکمت؛
حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں۔ کل گیارہ ازواجِ مطہراتؓ آپ ﷺ کے نکاح میں آئیں۔ ان میں سے اکثر بیوائیں تھیں، اور ان سے نکاح کے پیچھے مختلف حکمتیں تھیں:
»بیواؤں کی کفالت اور ان کی دلجوئی؛
»مختلف قبائل سے رشتہ داری قائم کرکے »اسلامی دعوت کو مضبوط بنانا
»عورتوں کے ذریعے دینی تعلیمات کا پھیلاؤ
»امت کو گھریلو اور ازدواجی زندگی کے احکام سکھانا.
3. آپ ﷺ کا ازواجِ مطہراتؓ کے ساتھ حسنِ سلوک؛ آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی میں محبت اور نرمی نمایاں تھی۔ قرآنِ کریم نے بھی آپ ﷺ کے طرزِ عمل کو "رحمت للعالمین" کہا۔ ازواجِ مطہراتؓ فرماتی ہیں کہ:آپ ﷺ گھر میں خوش اخلاق تھے، مسکرا کر بات کرتے، کبھی سختی نہ کرتے۔آپ ﷺ اپنے کپڑے خود سی لیتے، جوتے مرمت کر لیتے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے۔آپ ﷺ ہر بیوی کے ساتھ عدل اور انصاف کا برتاؤ کرتے، ہر ایک کے دن مقرر تھے۔آپ ﷺ کبھی اپنی بیویوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے اور نہ ہی اُنہیں برا بھلا کہتے۔
4. آپ ﷺ کی محبت و خلوص ؛آپ ﷺ کی خلوص اور محبت کا سب سے عظیم پہلو حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تھا۔ ان کی وفات کے بعد بھی آپ ﷺ اکثر اُن کا ذکر کرتے، اُن کی دوستوں کو تحفے بھیجتے، اور فرمایا کرتے:
"خدیجہ جیسی کوئی نہیں تھی"۔
یہ محبت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اپنی ازدواجی زندگی میں اخلاص اور محبت کے اعلیٰ ترین معیار پر تھے۔
5. گھریلو زندگی میں اعتدال؛آپ ﷺ نہایت سادہ اور عاجزانہ زندگی گزارتے۔ کبھی کبھی کئی کئی دن گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے شکر اور صبر سے اپنی ازواجؓ کو خوش رکھا۔ آپ ﷺ کی تعلیم تھی کہ دنیاوی آسائش اصل مقصود نہیں، بلکہ سکونِ قلب ایمان اور محبت میں ہے۔
ازدواجی زندگی سے امت کے لیے سبق؛نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:میاں بیوی کے درمیان محبت اور رحم و کرم ہونا چاہیے۔شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کے ساتھ نرم مزاج ہو اور عدل کرے۔
بیوی کے ساتھ وقت گزارنا، ہنسی مذاق کرنا اور خوش اخلاقی دکھانا سنت ہے۔گھریلو ذمہ داریوں میں تعاون کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔مشکلات میں صبر اور اللہ پر بھروسہ ہی حقیقی کامیابی ہے.
حضور اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی ازواجؓ کے ساتھ محبت، عدل، صبر اور وفاداری کا وہ عملی نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لیے ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے رہنمائی ہے۔ آج اگر مسلمان اپنی ازدواجی زندگی کو کامیاب اور پر سکون بنانا چاہیں تو اُنہیں رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے ساتھ برتاؤ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔اللہ تعالی ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی طرح اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ اور معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے