جی بالکل! عربوں اور ایرانیوں کا کوئی تقابل ہی نہیں ہے، بالکل صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔ کیونکہ اگر عرب ممالک ایران مثل ہوتے تو ابھی فقط وہ ایران کے میزائل انٹرسیپٹ کرنے پر اکتفاء نہ کررہے ہوتے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شانہ بشانہ قدم ملا کر ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہوتے جیسا کہ ۲۰۰۳ء میں عراق میں ایران نے سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی جی آر سی) کی بغل بچہ بد ربریگیڈ کے افراد کو عراق میں داخل کروا کر صدام حکومت کے خلاف بغاوت اور امریکی افواج کو معلومات اور مقامی راستوں میں سہولت فراہم کی تھی جس سے جنوبی شہروں میں امریکی پیش قدمی ممکن اور بعدازاں آسان ہوئی تھی۔
یا پھر جیسے ایران نے اپنی اینٹیلیجنس اور سیاسی رابطوں کے ذریعے امریکہ کے اس وقت کے عراقی حزب اختلاف المجلس الاعلیٰ اور حزب الدعوۃ سے رابطہ کروانےمیں سہولتکاری کی تھی تاکہ جلد از جلد صدام حکومت کا تختہ الٹا جاسکے، ایسے ہی عرب ممالک بھی ایرانی رجیم کے خلاف افراد و گروہوں کی سیاسی پشت پناہی کر رہے ہوتے اور اسرائیل اور امریکہ کے ان سے رابطے کرواکر رجیم چینج میں سہولتکاری کررہے ہوتے۔
یا پھر جیسے امریکی سفارتکار جیمز ڈوبنز کی امریکی سینٹ میں پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق ایران نے عراق میں موجود ایس سی آئی آر آئی یعنی مجلس اعلیٰ اور دیگر جماعتوں کو امریکہ کے خلاف بالکلیہ پیش قدمی نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے سبب سے عراق میں امریکہ کی پیشقدمی ممکن ہوسکی تھی، ایسے ہی عرب ممالک کو بھی چاہیئے تھا کہ مختلف ذرائع سے سازمانِ مجاہدینِ خلق اور شورای ملی مقاومت ایران جیسی پارٹیوں کو ایران رجیم کے خلاف بھڑکا کر امریکہ و اسرائیل کی کامیابی کے لیے سہولتکاری کرتے۔
اورپھر جب ایران کا سقوط ہوجاتا تو گلف لیڈر ویسے ہی بیان دے رہے ہوتے جیسا کہ سقوطِ عراق کے بعد خامنہ ای صاحب نے دیا تھا کہ
صدام حکومت کا خاتمہ ایران اور خطے کے لیے ایک بڑی نعمت اور خوشی کی خبر ہے
یا پھر لاکھوں مسلمانوں کے قاتل آنجہانی قاسم سلیمانی کی طرح کا کوئی مکروہ، قبیح اور جارحانہ بیان دے رہے ہوتے کہ
"ایران آج بغداد، دمشق، بیروت اور صنعاء میں اثرورسوخ رکھتا ہے اور جلد حجاز بھی ہمارے کنٹرول میں ہوگا"
لیکن افسوس کہ عرب ایران جیسے نہیں ہیں، ان میں اتنی شرافت و نجابت موجود ہے کہ اپنے ملکوں میں امریکی بیسز ہونے اور لاکھ دباؤ کے باوجود امریکہ کو انہیں ایران کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیا اور امریکہ و اسرائیل خطے میں اپنی بیسز ہونے کے باوجود مجبور ہیں کہ طیار بردار بحری جہازوں، بی -ون، بی-ٹو اور بی -۵۲ اور اسرائیلی فضائیہ کے ذریعے ایران پر حملہ آور ہوں۔
عرب کوئی ایران تھوڑی ہیں کہ جیسے ایران نے شام کے خلاف روس کو ہمدان بیس آفر کی تھی جہاں سے روس کے Tu-22M3 اور Su-34 بمبار طیارے اڑانیں بھر کر شام کی عوام پر بے رحم بمباری کرتے تھے، عرب اپنی بیسز سے ایران پر امریکی فضائیہ سے حملے کروائیں۔
واقعی گلف ممالک ایران جیسے نہیں ہیں، اگر وہ ایران جیسے ہوتے تو امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ملکر اسی قسم کا مشترکہ آپریشن روم بناتے جیسا کہ ایران نے روس اور بشار حکومت کے ساتھ مل کر "بغداد کوآرڈینشین سیل" بنایا تھا جس میں شامی مجاہدین کے خلاف سیٹلائٹ معلومات، ڈرون معلومات اور زمینی رپورٹس سب ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کی جاتی تھیں۔
یا پھر عرب ممالک امریکہ و اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف وہی جنگ حکمتِ عملی اختیار کرتے جو ایران نے روس کے ساتھ ملکر شام میں کی تھی کہ ایران زمین کے راستے اپنے ایرانی کمانڈرز، حزب اللہ اور عراقی و افغان شیعہ ملیشاؤں کو شام میں مقررہ علاقوں کی طرف پیش قدمی کرواتا اور روس ان علاقوں پر فضائی حملے کرتا اور پھر ایرانی ملیشاؤں پر مبنی زمینی فورس جاکر ان علاقوں پر قابض ہوجاتی۔
تو براہ مہربانی ایرانی جارحیت کے خلاف عرب ممالک کی خاموشی کو کافی سمجھئے اور عربوں کو امریکی بیسز کا طعنہ دینا بند کردیجئے کیونکہ آپ کے ممدوح ایران کی تاریخ اس قسم کے مکروہ اتحاد سے بھری پڑی ہے جہاں کبھی وہ مسلمانوں کے خلاف امریکہ سے ہاتھ ملا کر عراق میں خونریزی میں سہولتکار بنتا ہے تو کبھی آنجہانی قاسم سلیمانی کو خفیہ طور پر ماسکو روسی صدر پوٹن کے پاس بھیج کر شام میں براہ راست فوجی مداخلت کرنے پر آمادہ کرواکر لاکھوں شامیوں کے قتل اور ہجرت کا سبب بنتا ہے۔
اور ہاں جاتے جاتے سنتے جائیے کہ ہر کچھ عرصہ بعد عرب ممالک میں ایرانی جاسوس پکڑے جاتے ہیں جن کامقصدِ وحید ان ممالک میں شیعہ اقلیتوں کو حکومت کے خلاف بھڑکانا اور ان کا تختہ الٹنا ہوتا ہے۔ ان تمام "کارہائے نمایاں" کے بعد عربوں کی خاموشی کو غنیمت جانئے کیونکہ اگر وہ آپ کے ممدوح ایران کی سنت پر عمل پیرا ہوگئے تو اندازہ لگالیجئے کہ ایران کا کیا حشر ہوسکتا ہے۔
اور پھر کیا گارنٹی ہے کہ عرب اس دفعہ ایران کا ساتھ دیدیں تو وہ عرب ممالک کے خلاف اپنی ریشہ دوانیوں سے باز آجائے گا۔ ایران کی فطرت میں عربوں کو ڈنک مارنا شامل ہے اور وہ اس سے کبھی باز نہیں آیا۔ پس آپ امریکہ و اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت کیجئے، وہ ہم بھی کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں عربوں پر تبرا پڑھنا چھوڑ دیجئے کیونکہ ایران عربوں کے ساتھ جو کچھ کرچکا ہے، اس کے بعد عربوں کی ایرانی جارحیت کے خلاف خاموشی ایسی نعمت ہے کہ جس کے لیے ایران کو سجدہ سے سر نہ اٹھانا چاہیئے۔
جذباتیت اور اندھی عقیدت کی دنیا سے باہر نکلیے اور زمینی حقائق کا کچھ ادراک کرکے بات کیا کیجئے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہی ایران عرب چھوڑئیے پاکستان میں گھس کر ولایت فقیہ کی ترویج و تنفیذ میں آپ کا بھرکس نکال رہا ہوگا اور اس وقت علامہ یوسف قرضاوی کی طرح آپ کی بھی ایران سے متعلق ساری خوش فہمی رفع ہوجائیں گی لیکن افسوس اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔
ماخوذ از
تحریر: محمد فھد حارث