کہتے ہیں محبت انسان کو زندہ کرتی ہے مگر لیلیٰ و مجنوں کی محبت نے یہ بھی دکھا دیا کہ کبھی کبھی محبت انسان کو جلا بھی دیتی ہے۔ ایک ریتلا سا عشق جو ابتداء میں خوشبو تھا لیکن آخر میں راکھ بن گیا۔ مجنوں نے چاہا مگر چاہت نے اسے چاٹ لیا۔ وہ صحرا میں دوڑتا رہا، ہر ذرے میں لیلیٰ ڈھونڈتا رہا مگر خود کو کہیں گم کر بیٹھا۔ وہ بھول گیا کہ محبت اگر حد سے گزر جائے تو انسان کو محبوب نہیں خالی پن دیتا ہے۔
اُس کی آنکھوں میں لیلیٰ کا چہرہ بس گیا مگر اس کے دل میں خدا کا نور بجھ گیا۔ یہی اس کہانی کی اصل عبرت ہے کہ محبت جب خالق سے منقطع ہو جائے تو مخلوق بھی بے وفا لگنے لگتی ہے۔۔۔۔۔
آج کے نوجوان جو محبت کے نام پر اپنے خواب، اپنے والدین، اپنی پڑھائی، اپنا وقار قربان کر دیتے ہیں وہ سمجھیں کہ مجنوں کی راہ عشق نہیں خود فراموشی کی راہ تھی۔ وہ جسے عشق سمجھتا رہا وہ دراصل اپنی ہستی کا زوال تھا۔ محبت بری نہیں مگر جب محبت عقل سے اوپر ہو جائے تو وہ عبادت نہیں رہتی بلکہ فتنہ بن جاتی ہے۔ لیلیٰ و مجنوں کی داستان میں حسن ہے، درد ہے مگر ساتھ ایک تلخ سوال بھی ہے کہ کیا محبت اتنی قیمتی ہے کہ انسان اپنی ماں کی آنکھوں کا سکون، اپنے باپ کے اعتماد اور اپنے رب کی رضا تک بیچ دے؟ آج کے عاشق کہتے ہیں ہم لیلیٰ کے لیے سب کچھ کر گزریں گے مگر بھول جاتے ہیں کہ مجنوں نے بھی سب کچھ کیا تھا اور آخر میں کچھ نہ پایا۔ محبت تب حسین ہے جب وہ انسان کو بہتر کرے، نیک بنائے، مضبوط بنائے۔ اگر محبت تمہیں کمزور کر دے، تڑپا دے، چھین لے تم سے تمہاری خودی کو تو سمجھ لو وہ عشق نہیں ایک نرم زہر ہے جو دل کے راستے روح میں اتر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت کرو مگر اتنی نہیں کہ تم خود کو بھول جاؤ کیونکہ جس دن تم خود کو بھول گئے اسی دن تمہاری لیلیٰ بھی تمہیں بھول جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMRbbKrnXM3B