*والدین اور جدید معاشرہ*
زمانہ بدلا، خیالات بدلے، زندگی کے رنگ اور تقاضے بدل گئے لیکن ایک چیز جو نہیں بدلنی چاہیے تھی، وہ والدین کے احترام کا احساس تھا
جدید معاشرہ ہمیں آسائشیں تو دے گیا، مگر احساس چھین لے گیا
ہم نے رفتار تو بڑھا لی، مگر رشتوں سے دوری کی مسافت بھی بڑھا لی
گھر وہی ہیں چہرے وہی ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلے میلوں کے ہو چکے ہیں۔
ہم ترقی کے نام پر اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ اب اپنے ماں باپ کو پرانے نظریات سمجھنے لگے ہیں
جو چہرے ہماری زندگی کا سکون تھے، وہ اب ہمیں نوٹیفکیشنز سے کم اہم لگنے لگے ہیں، جو ہاتھ کبھی ہمیں چلنا سکھاتے تھے، اب ہم انہی ہاتھوں کے سامنے موبائل تھامے بیٹھے ہوتے ہیں، یاد ہے وہ وقت، جب ہم ایک بار روتے تھے تو ماں سو بار جاگتی تھی
جب ہم ٹھوکر کھاتے تھے تو باپ کا دل زخمی ہو جاتا تھا، آج وہی ماں چپ چاپ کچن میں ہمیں دیکھتی ہے، اور وہی باپ خاموشی سے اخبار کے پیچھے اپنا دکھ چھپاتا ہے، کیونکہ اب ان کا بیٹا ان کے پاس نہیں، اسکرین کے اندر ہے۔
ایک دن میں اپنے ابو کے ساتھ مسجد سے واپس آ رہا تھا نماز کے بعد وہ چپ تھے، مگر نظریں مسلسل میری طرف تھیں، میں ان کے پاس بیٹھا موبائل میں مصروف رہا، کبھی اسٹیٹس، کبھی ویڈیو، کبھی پیغام،جب ہونٹوں پر مسکراہٹ آتی تو وہ مجھے دیکھ کر چپ ہو جاتے، پھر اچانک بول اٹھے، بیٹا ہم نے تمہیں چلنا سکھایا ہے
یہ جملہ جیسے سینے پر پتھر بن کر گرا، میں چونک گیا، ابو نے آگے کہا، بیٹا تمہارا دھیان کہاں ہے،میں مسجد سے اب تک تم سے ایک بات کرنا چاہتا تھا،مگر تمہیں دیکھ کر لگا تمہارے پاس اب وقت نہیں، یاد رکھو تم جس فون کو پکڑ کر ہم سے منہ موڑ رہے ہو
اسی فون کو پکڑنے کی طاقت بھی ہم نے تمہیں دی تھی، تمہیں بولنا، سننا، سمجھنا سب ہم نے سکھایا ہے، اور آج تمہارے پاس الفاظ ہیں، مگر ہم تک نہیں پہنچتے،میں خاموش تھا دل رو رہا تھا، شاید یہ ہر بیٹے کی کہانی ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ ماں باپ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے،مگر ایک دن جب وہ نہیں ہوں گے، تب یہ موبائل ہمارے سامنے کھلا ہوگا
مگر ہماری دنیا بند ہو چکی ہوگی۔
یاد رکھو یہ موبائل تمہیں دنیا سے جوڑتا ہے،مگر والدین تمہیں رب سے جوڑتے ہیں،یہ اسکرین تمہیں معلومات دیتی ہے،مگر والدین تمہیں دعائیں دیتے ہیں، اور دعائیں ہمیشہ اسکرین سے زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔
لہٰذا جب تم اپنے والدین کے سامنے بیٹھے ہو،تو اسکرین بند کر دو مسکراہٹ کے ساتھ ان کی آنکھوں میں دیکھو، کیونکہ وہ چہرے وہ روشنی ہیں جن کے بغیر تمہاری کوئی صبح روشن نہیں ہو سکتی وقت گزر جائے گا، لیکن اگر تم نے والدین کی موجودگی میں ان کی قربت کو ضائع کر دیا، تو پھر ساری دنیا کے سگنل بھی تمہیں ان کی دعا سے نہیں جوڑ سکیں گے۔
05/11/2025
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*