🌿 (ایک مفتی صاحب کا حیرت انگیز واقعہ) 🌿

چند ماہ پہلے ایک صاحب مجھ سے ملنے آئے۔ محبت و عقیدت کا رشتہ تھا، مگر اس دن وہ بہت پریشان تھے۔ بیٹھتے ہی کہنے لگے:

"مفتی صاحب! کبھی میرا کاروبار عروج پر تھا۔ لاکھوں کی آمدن، گاڑی، آسائشیں… سب کچھ تھا۔ آج بھی وہی کاروبار ہے مگر برکت نہیں رہی۔ گاڑی بک چکی، قرض بڑھتا جا رہا ہے، مشکل سے گزارا ہو رہا ہے۔ سنا ہے آپ روحانی علاج کرتے ہیں، دیکھئے کہیں جادو، بندش یا نظرِ بد تو نہیں؟ کوئی تعویذ، وظیفہ دے دیجئے تاکہ پہلے جیسے حالات لوٹ آئیں۔"

یہ کہتے کہتے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

میں نے کہا: "فکر نہ کریں، میں آپ کے گھر کے برتنوں پر دم کروں گا، ان شاء اللہ برکت لوٹ آئے گی۔"

وہ حیران ہوئے، پوچھا: "کیا برتن آپ کے پاس لاؤں یا آپ گھر تشریف لائیں گے؟"

میں نے جواب دیا: "نہ آپ برتن لائیں گے، نہ میں گھر آؤں گا۔ بس تین دن تک روزانہ کچن میں جمع ہونے والے دھونے کے برتنوں کی تصویریں لے لیجیے اور چوتھے دن موبائل میں لے آئیں۔ میں ان پر دم کر دوں گا۔"

جب تصاویر دیکھیں تو ہر برتن میں کچھ نہ کچھ سالن یا کھانا باقی تھا، جو دھل کر نالی میں جا رہا تھا۔

میں نے پوچھا: "یہ بچا ہوا کھانا کیا ہوتا ہے؟"
بولے: "ظاہر ہے دھل کر نالی میں چلا جاتا ہے۔"

میں نے کہا: "میں دم نہیں کروں گا۔"

وہ چونکے۔ وجہ پوچھی تو میں نے مختصر سا جواب دیا:

"آج کے بعد رزق کو اس طرح ضائع نہیں کرنا۔ جتنا کھانا ہو اتنا ہی پلیٹ میں ڈالیں۔ برتن کھاتے وقت صاف کریں۔ جو بچ جائے اسے کسی غریب کو دے دیں یا جانوروں کو ڈال دیں، مگر نالی اور کوڑے میں نہ پھینکیں۔ رزق کی بے ادبی نہ کریں۔"

انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

ان کی تسلی کے لیے میں نے 21 مرتبہ سورۃ الفاتحہ پڑھ کر برتنوں پر دم بھی کر دیا تاکہ دل مطمئن رہے۔

چند ہفتوں بعد وہ دوبارہ ملنے آئے۔ اس بار چہرے پر خوشی تھی۔ گلے لگ کر رونے لگے اور کہنے لگے:

"مفتی صاحب! کاروبار سنبھل گیا ہے۔ بڑے بڑے آرڈر دوبارہ مل رہے ہیں۔ آپ کے دم نے کمال کر دیا!"

میں نے مسکرا کر کہا:

"یہ دم نہیں، رزق کا ادب ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق رزق کی بے قدری تنگ دستی کا سبب بنتی ہے۔ آپ نے رزق کا احترام شروع کیا، برکت خود بخود لوٹ آئی۔"

انہوں نے عزم کیا کہ زندگی بھر رزق کے ایک ذرے کو بھی ضائع نہیں کریں گے۔ میں نے کہا:
"اگر واقعی ایسا کیا تو گاڑی بھی آئے گی اور بینک بیلنس بھی۔"

✨ سبق:
برکت صرف کمائی میں نہیں، قدر دانی میں ہوتی ہے۔
رزق کا ادب کریں… برکت خود راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رزق کی قدر کرنے اور اس کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین 🤲


اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں 
۔