وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا
(اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو)
ذکرِ الٰہی مومن کے دل کی زندگی اور روح کی تازگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے ذکر کی تاکید فرماتے ہوئے فرمایا: "وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا" یعنی بندہ ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھے۔ ذکر صرف زبان سے تسبیح پڑھنے کا نام نہیں بلکہ دل، زبان اور عمل سے اللہ کو یاد کرنے کا نام ہے۔ جب دل میں خوفِ خدا، زبان پر شکر و حمد، اور عمل میں اطاعت ہو تو یہی کامل ذکر ہے۔
ذکر کے ذریعے دلوں کو سکون ملتا ہے، گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے، اور بندہ اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ آج کے شور و غفلت کے دور میں ذکرِ الٰہی ہی وہ چراغ ہے جو دلوں کو منور کرتا اور زندگی کو بابرکت بناتا ہے۔ جو بندہ اپنے رب کو یاد رکھتا ہے، اللہ بھی اسے یاد رکھتا ہے — یہی بندگی کی اصل روح ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں حقیقی معنی میں اپنے ذکر و عبادت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین
✍️ ہانیہ فاطمہ قادری