خون کی گردش کو برقرار رکھنے والے ایک عضلاتی پمپ کی نہیں، بلکہ یہ وہ 'سلطنتِ شعور' ہے جہاں حق و باطل کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقدس گوشہ ہے جسے خالقِ کائنات نے ایمان، معرفت اور الہامی نور کا مرکز بنایا ہے۔ قرآنِ حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت کی معراج اسی گوشۂ دل کی پاکیزگی میں پوشیدہ ہے، کیونکہ یہی وہ آئینہ ہے جس میں بندے کی نیت اور اس کا اصل عکس جھلکتا ہے۔
اسی اہمیت کے پیشِ نظر، کلامِ الٰہی میں انسانی دل کی کیفیات کو دو واضح اور متضاد طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جو ہماری ابدی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتے ہیں:"
1. پسندیدہ دل (محمود): اللہ کے نور سے منور
قلبِ سلیم (سلامتی والا دل): جو کینہ، شرک اور بغض سے پاک ہو۔ (الشعراء: 89)
قلبِ منیب (رجوع کرنے والا دل): جو توبہ کی خوشبو سے مہکتا ہو۔ (ق: 33)
قلبِ مطمئن (پرسکون دل): جو اللہ کے ذکر میں سکون پائے۔ (الرعد: 28)
قلبِ خاشع (عاجزی والا دل): جو اللہ کی یاد میں جھک جائے۔ (الحدید: 16)
قلبِ وجل (ڈرنے والا دل): جو اللہ کی عظمت سے لرز اٹھے۔ (الانفال: 2)
2. ناپسندیدہ دل (مذموم): غفلت کے اندھیروں میں
قلبِ مریض (بیمار دل): جس میں شک اور نفاق کی بیماری ہو۔ (البقرہ: 10)
قلبِ قاسی (سخت دل): جو پتھر کی طرح نصیحت کے لیے سخت ہو جائے۔ (الزمر: 22)
قلبِ مختوم (مہر لگا ہوا دل): جس پر حق کے دروازے بند ہو چکے ہوں۔ (البقرہ: 7)
قلبِ غافل (بے خبر دل): جو دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو گیا۔ (الکہف: 28)
قلبِ اعمیٰ (اندھا دل): جو بصیرت اور حق کو دیکھنے کی صلاحیت کھو چکا ہو۔ (الحج: 46)
حاصلِ کلام
جسمانی دل اگر دھڑکنا بند کر دے تو انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، لیکن اگر روحانی دل (سلیم یا منیب) مردہ ہو جائے تو انسان جیتے جی اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ اصل کامیابی "کاش" کے پچھتاوے سے بچ کر اپنے دل کو اللہ کی بندگی میں لگانے میں ہے۔
دعا:
اے اللہ! ہمیں ہمہ وقت اپنے دل کی پاکیزگی کی توفیق عطا فرما اور اسے مذموم ہونے سے بچا لے۔ (آمین)
نوٹ:اگر اس ناچیز سے لکھنے میں کوںٔی غلطی ہوئی ہو تو قارںٔین سے درستگی کی درخواست ۔
از قلم: زا-شیخ