مکاتب دینیہ کی اہمیت ضرورت اور افادیت

محمد امیر الاسلام

اسلام میں اولاد کی تعلیم و تربیت کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سات سال کے بچوں کو نماز کا حکم دو اور 10 سال کے بچوں کو نماز نہ پڑھنے پر مارو احادیث و تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسالت میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی کوئی مخصوص شکل نہیں تھی بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہ خود ہی اپنی اولاد کو ضروریات دین سکھلایا کرتے تھے عرب کے مختلف قبائل سے انے والے وفود کے ساتھ بچے بھی ہوتے جو خدمت نبوی میں قیام کر کے علم دین حاصل کرتے تھے اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست مقامی انصاری کیا کرتے تھے پھر عہد صحابہ میں حضرت عمر نے اپنے دار خلافت میں سب سے پہلے بچوں کی تعلیم کے لیے مکاتب کی بنیاد رکھی اور معلمین کے لیے ایک رقم بقدر کفایت بطور وظیفہ کر دی جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہونے لگا تو خلیفہ ثانی نے مزید مکاتب کے اجرا کا حکم دیا اور اپنے ماتحت اممال و عمراء کے نام میں فرمان جاری کیا کہ تم لوگوں کو قران کی تعلیم پر وظیفہ دو اس پر ایک فرمان روانے لکھے کہ اپ مجھے تعلیم قران پر لوگوں کو وظیفہ دینے کے لیے ارشاد فرمایا ایسی صورت میں وہ لوگ بھی قران کے تعلیم حاصل کریں گے جن کو کلام الہی کے بجائے وظیفہ میں رغبت ہوگی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا تم ان کو شرافت کو مورت صحابیت کے نام پر وظیفہ دو یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نہ عمر بچے ہی مستقبل کے اجال کار ہے اس لیے ان کی دینی ذہنی اخلاقی نشوونما اسلامی خطوط پر ہونا ضروری ہے اور ایسا ماحول ان کے لیے فراہم کیا جانا لازمی ہے۔جس میں خالص اسلامی تہذیب کی چھاپ ہو اور وہ اجنبی ثقافت کے تمام ایمان افروز اثرات سے پاک ہو مکتبی تعلیم کے اس اہمیت و ضرروت کے پیش نظر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے تین چیزیں لوگوں کے لیے ضروری ہے ایک حاکم و امیر ورنہ لوگ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہو جائیں گے دوسرے مصحف یعنی قران کی خرید و فروخت ورنہ کتاب اللہ کا پڑھنا پڑھنا بند ہو جائے گا اور تیسری بات یہ ہے کہ عوام الناس کی اولاد کو تعلیم دینے کے لیے معلم ضروری ہے جو ضرورت لی ورنہ لوگ ج*** رہ جائیں گے استاد مکتب کو پیشہ ور ملازم نہیں بلکہ اپنا محسن مسلم اور مرشد سمجھا جاتا تھا اور بجائے اپنے اولاد کی اندھی محبت میں بہ جانے کا ساجدہ کو خوب تاکید کی جاتی تھی کہ وہ بغیر کسی رعایت کے ازادی کے ساتھ تعلیم و تربیت پر توجہ دے اور بچوں کی عمر اجسام نیت کا لحاظ کرتے ہوئے ضرورت پڑنے پر مناسب سرزنش کرے۔

شہروں اور دیہاتوں کے لیے یکسا ضروری امر موجودہ زمانے میں جبکہ شہروں میں مغربیت اور مادیت کا سمندر ٹھی مارنے مار رہا ہے اور زندگی کے مکمل ابتدائی مراحل پر محیط ہونے والے عصر تعلیم بھی نام نہاد اقلیت و دین بیزاری پر مبنی ہوتی ہے والدین میں بھی دینی شعور کا فقدان ہو گیا ہے ایسی سنگین صورتحال میں جا بجا مکاتب کا قیام شہری مسلمانوں کی سب سے بڑی اور اولین دینی ضرورت ہے اس کے بغیر نو نہالوں کے اعتقادی و مذہبی تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی دوسری طرف دیہاتوں کو عیسائی مشنریوں کی گمراہ انہ دعوت سے اور قادیانی کارکینوں کی زہر افشانیوں سے اسی وقت بچایا جا سکتا ہے جبکہ ایمان ساز روح پرور مکاتب کا قیام عمل میں لایا جائے غرض شہری ہو یا دیہاتی ہر کلمہ گو کا مذہبی تخصص اور اس کے غیرت دینی کا تحمل اس کی مکتبی تعلیم سے وابستہ ہے انہی تمام حقائق پر نظر ڈالتے ہوئے علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا۔

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

فکر عرب کو دیکھے فرنگی تخیلات

اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرت دینی کا ہے یہ علاج

ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو