ذرا پہلے نہ پہچانی نگاہ باغباں ہم نے
از قلم: محمد امیر الاسلام
مسلمان عالم اپنی تاریخ کے بھیانک ترین دور سے گزر رہے ہیں ہر طرف اضطراب کا ماحول ہے قدم قدم پر مشکلات کا سامنا ہے خصوصا بیسویں صدی عیسوی کے شروع ہونے کے بعد سے ہم پریشان ہیں ساری اسلام مخالف طاقتیں ہمارے خلاف متحد ہو کر سازش رچ رہی ہیں اور مسلمان خواب غفلت میں سو رہے ہیں اور ہم اپنے ماضی کو بھول رہے ہیں ہمیں ہمارا ماضی حد نہیں اور دشمن ہمارے ماضی سے سبق لے کر ہم ہی پر شکنجے جڑتے جا رہے ہیں اور ہم محض خواب مسلمان ان چالوں میں پھنستے جا رہے ہیں
اقوام عالم نے متحد ہو کر کیا کیا نہیں کیا ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہے سب سے پہلے ان لوگوں نے تاریخ اسلام سے اچھی طرح واقفیت حاصل کیا رائستہ اہستہ ہمیں علماء کرام سے دور کر دیا پھر ہمارے دلوں سے علماء کی محبت و عظمت کو ختم کر دیا گیا جس کا نتیجہ اج ظاہر ہے کہ ہمارا دل مردہ ہو چکا ہے اج جہاڑ دھانگ عالم میں مسلمان پریشان ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ہمارے دشمن ہم پر قابض ہو کر ہمیں ختم کر رہے ہیں ہمیں اندرونی طور پر بالکل کمزور کر دیا گیا ہے ہمارے ملک میں تو مسلمانوں کا وجود احتجاجوں مطالبوں اور مدافعتوں کی علامت بن کر رہ گیا ہے چاروں طرف مسائل کا غیر محدود سلسلہ اور ختم نہ ہونے والے دہشت گردی کے الزامات جاری ہے کبھی اذان پر پابندی لگائی جا رہی ہے تو کبھی تین طلاق کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے تو کبھی ج حجاب پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو کبھی نیو تعلیمی پالیسی لا کر نون نہالہ نے اسلام کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے تو کبھی وقت ترمیم بل کے ذریعے مسلم اوقاف کو ہر اپنے کی ناپاک سازش ہے رچی جا رہی ہیں کہ اس ملک کے حالات ہیں جس میں مسلمانوں نے 8 س سال تک حکومت کی پھر انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد مسلم اکثریت کی جدوجہد اور علمائے ہند کی مسلسل 200 سالہ کوششوں کے بعد ازاد کرایا گیا یہ تو صرف ایک ملک کے حالات ہیں اگر ہم پوری دنیا پر ایک ایرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اسلام مخالف طاقتوں نے اسلام کے خلاف کیا کیا حربہ اختیار کیے ہیں یہ بات مخفی نہیں ہے کہ روز اول ہی سے اسلام کے خلاف مخالفت اور سازشیں جاری ہیں اس کے باوجود ہر موقع پر اسلام اور مسلمان غالب اتے رہیں اور اسلام مکہ کی گھاٹیوں سے نکل کر سارے عالم میں پھیل گیا اور پھیلتا ہی چلا گیا اس دوران بہت سی اتار چڑھو کا سامنا ہوا لیکن صلحوی صدی کے اتے اتے مسلمانوں کے اندر ایک بہت بری اور بڑی خرابی کی شروعات ہوئی جس کو اج ہم اور اب دھوکہ بازی اور مکہ مکاری کے نام سے جانتے ہیں اور ساتھ ہی مسلم عوام نے علماء کی قدر کرنی بھی چھوڑ دی جو کہ غیر مسلم متحدہ طاقتوں کا کیا کرایا ہوا ایک چاند تھا جس کے نتیجے میں اسلام جس طرح پھیلا تھا تنزلی کی طرف مائل ہونے لگا سپر پاور سمجھے جانے والی مسلم حکومت وں کو ختم کر دیا گیا 16ویں صدی سے پہلے مسلمانوں کا پورے عالم میں ایک دبدبہ تھا غیروں نے اپسی بھائی چارگی کو ختم کر کے مسلمانوں کو علماء اور مسلم رہبروں سے دور کروا کر فساد پیدا کیا جس کی بنا پر مسلم طاقتیں اپس میں پھر پڑی اور اکثر حکومتیں ختم ہو گئی اور جو باقی تھی وہ مٹی کے شیر کے مانند ہو کر رہ گیا ہے پہلی جنگ عظیم( World war 1) کے بہانے خلافت عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا اج مسلمان خلافت عثمانیہ کے بارے میں نہیں جانتے ہیں خلافت عثمانیہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے طرز پر قائم تھی دارالحکومت قسطنطینیا میں بنایا گیا تھا جو موجودہ ترکی کے نام سے موسوم ہے اگر ہم ملک ہندوستان ہی کو دیکھنے کے انگریز کے انے سے پہلے یہاں قومی یکجہتی پائی جاتی تھی ہندو مسلم سکھ سب مل کر رہا کرتے تھے اگر کبھی کسی سے جنگ کی نوبت پیش اتی تو مسلم بادشاہ کے لشکر میں تمام مذاہب کے ماننے والے اور پیشوا موجود ہوتے تھے جب انگریز ائے تو اتحاد کو ختم کر دیا نہ صرف قومی یکجہتی کو ختم کیا بلکہ مذہبی اتحاد کو بھی پھاڑا پارہ کر دیا جس کی وجہ سے انگریز نہ صرف ملک ہندوستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک پر بھی قابض ہو گئے نتیجہ جہ یہ ہوا کہ مسلمان کمزور ہو گیا اور اج تک پہلے کی مانند اپنے طاقت کو بحال نہیں کر سکے اگر ہم نے پہلے جنگ عظیم کو دیکھے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دو ملکوں کے اپسی تصادم کی وجہ سے شروع ہوا اور پھر اس پروس کے ملکوں کی مدد فراہم کرنے کی وجہ سے جنگ سن 1914 سے 1918 عیسوی تک جاری رہا جو کہ جنگ عظیم کی شکل میں رونما ہوا اس جنگ کے تول پکڑنے کی وجہ ان ملکوں کا اپس میں معاہدہ (alliance) ہے
جو ان کو جنگ میں کودنے پر مجبور کر رہے تھے اس صرف اور صرف ظاہر ہے اور دنیا جانتے ہیں اس کا نتیجہ خلافت عثمانیہ خوب خاتم کر دیا گیا جس کی وجہ سے اس معنی خلافت کے ماتحت چلنے والی حکومت ختم ہو گئی اسی طرح ہم جب دوسری جنگیں کی جانب نظر ڈالے تو معلوم ہوگا کہ یہ بھی اسلام مخالفت ہی کی ایک کڑی تھی جو فلسطین کی شکل میں ظاہر ہوا 1947 عیسوی میں ساری دنیا میں جتنی یہودی بچ گئے تھے تقریبا 600 سب کو جمع کر کے سرزمین فلسطین میں جمع کر دیا گیا تھا جس کی سزا اج ہماری نظروں کے سامنے ہے ماہ محمد میں ایک سال ہونے جا رہا ہے مگر جنگ جاری ہے وہاں ایک عمارت بھی باقی نہیں ہے ان درندہ صفت انسانوں نے جنگ بندی کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکولوں اور ہسپتالوں کو بھی نہیں چھوڑا وہاں کے بارے میں سوچنے پر ہی انکھوں کی نیندیں اڑی جا رہی ہیں اقوام متحدہ کی یہ حالت ہے کہ گویا وہ نابینا ہو چکے ہیں انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے حالانکہ(uno) اقوام متحدہ کو (World war 2) کے بعد اسی لیے بنایا گیا تھا تاکہ کوئی ملک تباہ و برباد ہونے نہ پائے اقوام متحدہ (uno) کہ یہ حق تلفی صرف اور صرف مذہب ہی کی بنا پر ہے جس وقت برما میں برما میں ملک شام میں مسلمانوں کی ظلم و بربریت کی انتہا کی گئی اس وقت بھی (uno) کہ انکھوں پر پیسہ اور پاور کی پٹی لگا دی گئی تھی اگر اس طرح کے حالات کسی غیر اسلامی ملک پر پیش ائے جب اقوام متزہ چاک و چوبند نظر اتے ہیں ماضی قریب ہی میں اپ پر اشیا اور یوکرین کی جنگی کو دیکھنے جنگ کو روکنے کے لیے کتنے اقدامات کیے گئے ہم کیا ہی لکھ سکتے ہیں حقیقت اپ کے سامنے ہے جب بہت غور کیا جائے تو ایک ہی بنیادی وجہ معلوم ہوتی ہے اور وہ ہے بچپن میں بچوں کی تربیت اس کے بھی کئی بھی پہلو ہیں ایک اس دور میں گھروں میں دینی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے تاریخ اسلام سے دوری اس کی وجہ سے نوجوان نسل اسلامیات سے واقفیت نہیں رکھتے اور اپس میں اختلافات ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ جب بچہ اپنے گھر میں رہتا تو دیکھتا ہے گھر میں میاں بیوی میں اختلاف بھائی بہن میں اختلاف جب اسکول یا مدرسہ جاتا ہے اپنے دوستوں اور اساتذہ کے مابین اختلاف لہذا بچپن ہی سے ہر جو اختلاف اختلاف دیکھتا ہے اتا ہے تو اس کا ذہن بھی ویسا ہی بن جاتا ہے پھر میدان کارزار میں انے کے بعد ایک دوسرے کی بنتی نہیں اگر اختلافات علمی حدود تک محدود ہوتی تو خیر تھا مگر یہاں گفت بر کر شخصی اختلافات میں تبدیل ہو رہا ہے اج ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنے بچوں کو بچپن اسے اسلامی تعلیمات سے اراستہ کرائے اتحادوں بھائی چارگی کی تعلیم دے تاریخ تاریخ اسلاف سے اگاہ کرائے اور خود اسلامی شریعت پر عمل کر کے اپسی اختلافات کو ختم کر کے اپسی محبت کا اظہار پیش کریں والدین اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں داخل کروائیں جہاں اسلامی تعلیم دی جاتی ہو ورنہ وہ دن دور نہیں کہ نئی نسل اسلام سے پھر جائے یا برما چین شام اور فلسطین جیسا حال ہمارا ملک میں بھی ہو اخر میں میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ہمارے نسلوں کو نسلوں کی حفاظت فرمائے اور اس ملک میں ہماری جان ہمارا مال اور ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ناموس رسالت اشاریہ پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرمائے
امین